اقوال

اسلامی اقوال

حصول علم کے لیے دِل جمعی درکار ہے اور دِل جمعی معلومات کے بڑھانے سے نہیں گھٹانے سے حاصل ہوتی ہے .

مصائب گناہوں کا نتیجہ ہوتے ہیں . گنہگار کو یہ حق نہیں پہنچتا کہ وہ مصیبتوں کے نزول کے وقت واویلا کرے .

تعلقات دنیا کو کم کرنا یہ ہے کہ آدمی دنیا سے ضروری چیزیں لے لے اور غیر ضروری چھوڑ دے .

جو علم کو دنیا کمانے کے لیے حاصل کرتا ہے علم اس کے قلب میں جگہ نہیں پاتا .

ایمان

گناہ گاروں کو خدا کی رحمت سے مایوس نہیں ہونا چاہیے۔

ایمان داروں ہی کی آزمائش ہوتی ہے۔

شریعت پر عمل کرنے سے روحانی ترقی حاصل ہوتی ہے۔

مصیبت کا مقابلہ صبر سے کرو اور نعمتوں کی حفاظت شکر سے۔

صبر

موت کو یاد کرنے سے مصیبت کم ہو جاتی ہے۔

صبر تقویٰ اور توکل کی بنیاد ہے۔

صبر کا دامن تھام لو اور صرف حق تعالیٰ کے طلبگار بن جاؤ۔

صبر انسان کو اندر سے مضبوط بناتا ہے۔

گفتار

انسان کی شرافت اور قابلیت اس کے لباس سے نہیں ، اس کے کردار اور فعل و گفتار سے ہوتی ہے .

گفتگو کے لیے ذہانت سے زیادہ اعتماد کی ضرورت ہوتی ہے .

پریشانی میں مذاق اور خوشی میں طعنہ نہ دو ،
کیوں کے اِس سے رشتوں میں محبت ختم ہو جاتی .

خاموشی عظیم نعمت ہے بِالْخُصُوص اس مقام پر جہاں اختلاف ذیادہ آوازیں بلند ، علم کی کمی اور دلیل کی کوئی اوقات نا ہو .

متفرق اقوال

جنہیں خواب دیکھنا اچھا لگتا ہے انہیں رات چھوٹی لگتی ہے،
اور جنہیں خواب پورا کرنا اچھا لگتا ہے انہیں دن چھوٹا لگتا ہے۔

گھر کا بلب فیوز ہو گیا، نوکر نے فوراً الماری میں رکھ دیا۔
مالک نے پوچھا: بھئی بخشو! یہ کیا کر رہے ہو؟
نوکر جناب بلیک آؤٹ کے دنوں میں کام آئے گا۔

اپنے تھوڑے کو دوسرے کے زیادہ سے بہتر جان، سکون میں رہے گا۔

عالم اس لیے مغرور ہے کہ وہ بہت کچھ جانتا ہے۔ دانا اس لیے دھیما ہے کہ اُس نے ابھی بہیت کچھ جاننا ہے۔ علم، معلوم پر نازاں ہے، دانائی، نامعلوم کے جاننے کی کوشش میں سرگرداں ہے۔ عالم کو احساس جہالت ہو جائے رو وہ دانائی میں قدم رکھ سکتا ہے۔

واصف خیال