تازہ ترین سرخیاں
 عالمی خبریں 
6 اپریل 2016
وقت اشاعت: 8:19

دنیا کی دوتہائی آبادی قلت آب کا شکار ، مطالعاتی رپورٹ

جیو نیوز - واشنگٹن .......... دنیا کے چار ارب لوگ، یعنی کرہ ارض کے تین میں سے دو افراد کو بنیادی ضرورتیں پوری کرنے کے لیے درکار تازہ پانی میسر نہیں ہے۔ یہ تعداد اس سے کہیں زیادہ ہے جس کا پہلے اندازہ لگایا جاتا رہا ہے۔

یہ بات ایک نئے مطالعے سے ظاہر ہوتی ہے، جس سے اس مسئلے کی سنگینی کی واضح تصویر ابھر کر سامنے آتی ہے۔ آبادی میں اضافے، صارفین کا رہن سہن اور زراعت کی اضافی ضروریات کے باعث پانی کی قلت بڑھتی جا رہی ہے۔ارجن ہکسترا نیدرلینڈ کی یونیورسٹی آف ٹوینٹی میں پانی کے انتظام کے بارے میں پروفیسر ہیں۔

وہ کہتے ہیں کہ یہ اثرات ہر جگہ عیاں ہیں۔ ارجن نے مطالعے پر ایک مشترکہ مضمون میں تحریر کیا ہے کہ زیر زمین پانی کی سطح نیچے جا رہی ہے، جب کہ جھیلیں خشک ہوتی جارہی ہیں۔ دریاؤں میں پانی کا بہاؤ گھٹ گیا ہے۔ اس کے باعث، ماحولیاتی اور حیاتیاتی نظام میں تنوع کو خطرات لاحق ہیں۔

دریا کے کناروں پر آباد برادریوں کو پانی کی کم دستیابی کی صورت میں نتائج بھگتنے پڑتے ہیں، جہاں پانی کا بہاؤ کم ہو چکا ہے۔ماضی کے مطالعاتی جائزوں کے برعکس، یہ مطالعہ دنیا بھر میں سالانہ بنیاد کے بجائے، دستیاب پانی کے استعمال کا موازنہ ماہوار بنیاد پر کرتا ہے۔

ان کے معیار کے مطابق، مطالعے میں تحقیق کاروں نے موسم کا ڈیٹا، زمین کا استعمال، زرعی اجناس کی افزائش، زراعت، گنجان آبادی اور صنعت کے عناصر کو مدِ نظر رکھا ہے۔مطالعے سے پتا چلتا ہے کہ اس صورت حال کے نتیجے میں 1.7 ارب سےزائد افراد متاثر ہیں، جب کہ پہلے اندازوں کے مطابق یہ تعدد 3 ارب افراد کا تھا۔

چار ارب محروم آبادی میں سے نصف تعداد چین اور بھارت سے تعلق رکھتی ہے۔ارجن نے کہا ہے مسئلے کی نوعیت عام ہے جب کہ میکسیکو، شمالی افریقہ، جنوبی افریقہ، مشرق وسطیٰ اور امریکا کی مغربی ریاستوں میں یہ مسئلہ شدید نوعیت اختیار کر چکا ہے۔

متن لکھیں اور تلاش کریں
© sweb 2012 - All rights reserved.