5 نومبر 2015
وقت اشاعت: 9:48
ارون دتی رائے نے قومی ایوارڈ کیوں واپس کیا؟
جیو نیوز - کراچی....... فاضل جمیلی....... بھارت میں مودی سرکارادیبوں، شاعروں، دانشوروں اور فنکاروں کےلیے شرمندگی کا باعث بن گئی ہے۔ ملک میں بڑھتی ہوئی عدم برداشت کے خلاف ’’ایوارڈ واپسی تحریک‘‘ ایک سیاسی مہم کی شکل اختیار کر گئی ہے۔
نامور ادیبہ ارون دتی رائے بھی اب اس تحریک میں شامل ہو گئی ہیں۔ اپنا قومی ایوارڈ واپس کرنے کا اعلان کرتے ہوئے انہوں نے کہا ہے کہ اس وقت بھارت میں جو کچھ ہو رہا ہے وہ اس پر شرمندہ ہیں۔
ارون دتی رائے کو بہترین اسکرین پلے لکھنے پر یہ ایوارڈ 1989ء میں ملا تھاجبکہ 2005 ء میں انہوں نے کانگریس حکومت کے دوران ساہتیہ اکیڈمی ایوارڈ لینے سے انکار کر دیا تھا۔
قومی ایوارڈ واپس کرنے کے فیصلے کی وضاحت کرتے ہوئے ارون دتی رائے نے ’’انڈین ایکسپریس‘‘ میں لکھا ہے کہ انسانوں کو مارنے اور زندہ جلائے جانے کو ’’عدم برداشت ‘‘کہنا درست نہیں ہے۔
اس وقت لاکھوں کی تعداد میں دلت ، مسلمان اور عیسائی خوف کے عالم میں جی رہے ہیںکہ نہ جانے کب کسی حملے کا نشانہ بن جائیں۔یہ انتہائی ناامیدی کی علامت ہے ۔
ہم ایک ایسے ملک میں رہ رہے ہیں جہاں کوئی بھی بدمعاش یا غندہ ایک خیالی گائے کو ’’غیرقانونی‘‘ طور پر ذبح کرنے کے الزام میں آپ کو قتل کر سکتا ہے۔ان کے نزدیک ایک انسان کی کوئی قیمت نہیں۔
آج کوئی بھی ادیب باباصاحب امبیدکرکی طرح کھل کر نہیں کہہ سکتا کہ ’’ ہندومت ہولناکیوں کا اصلی چیمبرہے‘‘۔ ایسا کہنے یا لکھنے والے کو مارا ، جلایایا جیل میں ڈالا جا سکتا ہے۔آج کوئی ادیب وہ کچھ بھی نہیں لکھ سکتا جو سعادت حسن منٹو نے ’’انکل سام کے نام خطوط‘‘ میںلکھا ہے۔
اگر ہم آزادانہ طور پر بولنے کا اختیار نہیں رکھتے تو ہم ایک ایسے معاشرے میں تبدیل ہو جائیں گے جونانقص غذائیت کا شکار ہو جاتا ہےاور دانشوروں کی نہیں بے وقوفوںکی قوم کہلاتا ہے۔برصغیربھر میں سب تنزلی کی طرف جا رہے ہیں اور بھارت بھی اب اس دوڑ میں شامل ہو گیاہےجہاں سنسرشپ کا ٹھیکہ ایک ہجوم کو دے دیا گیا ہے۔
ارون دتی رائے نے لکھا ہے کہ وہ ایوارڈواپسی تحریک کو سیاست سے الگ نہیں سمجھتیں اور انہیں خوشی ہے کہ وہ اس سیاسی تحریک کا حصہ بن رہی ہیں۔ان کے خیال میں اس وقت شاعراور ادیب جو کچھ کر کر رہے ہیں تاریخ میں اس کی مثال نہیں ملتی۔
قومی ایوارڈ واپس کرنے کےان کے فیصلے کو کانگریس بی جے پی سیاست کے ساتھ نتھی نہ کیا جائے کیونکہ انہوںنے 2005ء میں کانگریس حکومت کے دوران ساہتیہ اکیڈمی ایوارڈ لینے سے انکار کر دیا تھا۔واضح رہے کہ ارون دتی رائے نریندرمودی کو اقتدار میں لانے کی سخت مخالف رہی ہیںاور اپنی کتاب ’’چھوٹی چیزوں کا خدا‘‘پر بکر پرائز جیت چکی ہیں۔