5 نومبر 2015
وقت اشاعت: 11:31
روپے اور ڈالر کی قیمتوں میں چوہے بلی کا کھیل
جیو نیوز - کراچی......سلیم اللہ صدیقی......روپے اور ڈالر کی قیمتوں میں شروع ہی سے چوہے بلی کا کھیل جاری ہے ۔ ۔۔بس فرق اتنا ہے کہ یہاں ڈالر کو روپے پر ہمیشہ برتری حاصل رہی ہے۔ اب ایک مرتبہ پھر روپے کی قدر میں بتدریج کمی کا سلسلہ جاری ہے۔
گزشتہ روز اوپن کرنسی مارکیٹ میں امریکی ڈالر کی قیمت 106روپے سے تجاوز کرتی نظر آئی۔کرنسی ڈیلر ڈالر کی قیمت میں اضافے اور روپے کی قدر میں کمی کا ذمہ دار حکومت کو قرار دے رہے ہیں۔آئی ایم ایف اور ایکسپورٹر کا دباؤ بھی روپے کی قدر میں کمی کی وجہ قرار دیا جارہا ہے۔
روپے کی قدر میں کمی اور ڈالر میں اضافے کا رحجان رواں برس اگست کے آخری ہفتے سے شروع ہواجب ڈالرایک سوچار اعشاریہ دو پانچ پردوبارہ پہنچا۔ایک کرنسی ڈیلر کے مطابق رواں برس اگست کے مہینے میں ڈالر کی قدر کو کنٹرول کیا گیا تھا اور اسے ایک سوچار اعشاریہ50پیسے سے زیادہ نہیں ہونے دیا گیا تھا۔تاہم ڈالر کی قدر میں تازہ اضافہ کسی بلند سطح پر جاتا نظر آرہا ہے۔رواں برس جون میں ڈالر اوپن مارکیٹ میں ایک سو ایک اعشاریہ سات چھ سے ایک سو ایک اعشاریہ آٹھ ایک تک خریدا اور بیچا گیا ۔
روپے کی قدر میں کمی بیرونی قرضوں میں اضافے کا بھی سبب ہے۔عام آدمی کیلئے اہم بات یہ ہے کہ روپے میں کمی کا مطلب مزید مہنگائی ہے۔ماہرین کہتے ہیں کہ روپے کی قدر میں بہتری غیرملکی سرمایہ کاری میں اضافے ،ترسیلات زر میں بہتری اور برآمدات کے بڑھانے سے ہی لائی جاسکتی ہے۔
پاکستان میں ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قدر میں اتنی کمی کسی ایک دن یا کوئی ایک حکومت کے دور میں نہیں ہوئی بلکہ اس میں گزشتہ تمام حکومتوں کی پالیسی کا عمل دخل رہا ہے جن کی وجوہات میں غیرمستحکم اقتدار ،ناقص معاشی پالیسی اور بے جا اصراف جیسے مسائل شامل ہیں۔
میاں نواز شریف کا موجودہ دور حکومت
جون 2013 میں میاں محمد نواز شریف تیسری مدت کیلئے وزیراعظم منتخب ہوئے۔ اس موقع پر ڈالر کی قیمت فروخت99 اعشاریہ تین تین اورقیمت خرید 96 اعشاریہ نو سات پر جاری تھی۔6ماہ بعد دسمبر 2013 میں اوپن کرنسی مارکیٹ میں ڈالر کی قیمت خریدایک سو پانچ اعشاریہ ایک زیرو اور فروخت ایک سو پانچ اعشاریہ چھ صفرپر ہورہی تھی۔
دو ہزار چودہ میں ڈالر کی قدر میں مجموعی طور پر 4 اعشاریہ آٹھ زیرو روپے کمی دیکھی گئی۔31دسمبر2014کو ڈالر کی قیمت خرید 100 اعشاریہ پانچ پانچ اور فروخت 100 اعشاریہ چھ صفرروپے تھی۔2014مارچ اپریل کے دوران ڈالر ایک مرتبہ پھر 100سے نیچے آگیا تھاتاہم کئی وجوہات کے سبب یہ سلسلہ زیادہ دیر تک برقرار نہیں رہا۔
ذوالفقار علی بھٹوکا دور حکومت
ڈالر کے مقابلے میں روپے کے تاریخی اعدادوشمار کا جائزہ لیا جائے تو دسمبر1971میں مشرقی پاکستان کی علیحدگی کے بعد ذوالفقار علی بھٹوکی قیادت میں پیپلزپارٹی پہلی مرتبہ بر سراقتدار آئی تو 1972 میں ڈالر کی قیمت چار اعشاریہ سات صفرروپے تھی۔وطن عزیز کا یہ دور بہت مشکل تھا،قوم دل گرفتہ تھی بھارتی جارجیت سے ملک کو بہت نقصان پہنچا تھا۔ اس دور میں حکومت نے کئی مشکل فیصلے کئے تاہم 1977 میں پی پی کے دورحکومت کے اختتام تک ڈالر9 اعشاریہ نو صفرروپے پر پہنچ چکا تھا۔
جنرل ضیاالحق کا دور حکومت
سابق آرمی چیف جنرل ضیاالحق کے دور اقتدار میں 5ستمبر1982 کو ڈالر کی قیمت 12 اعشاریہ دو چھ روپے تھی۔17اگست1988کو جب جنرل ضیاء الحق طیارے کے حادثے میں جاں بحق ہوئے تو اس روز پاکستانی روپے کے مقابلے میں ڈالر کی قیمت18 اعشاریہ تین دوروپے تھی تاہم یاد رکھنے کی بات یہ ہے کہ جنرل ضیاالحق کایہ وہ دور حکومت ہے جب افغانستان میں روسی مداخلت کے سبب پاکستان کو اس کا مقابلہ کرنے کیلئے امریکا سمیت یورپ بھر سے ڈالروں کی صورت میں بھرپور امداد مل رہی تھی جس سے اس زمانے میں پاکستانی روپے کو سنبھالا ملتا رہا۔
محترمہ بے نظیر بھٹو کا پہلا دور اقتدار
1988 کے آخر میں ایک طویل جدوجہد کے بعدپیپلزپارٹی کو بے نظیر بھٹو کی قیادت میں پھر اقتدار کا موقع ملا۔عالم اسلام اور پاکستان کی پہلی منتخب خاتون وزیراعظم نے 2دسمبر1988کو جب وزارت عظمیٰ کا حلف اٹھایا تو ڈالر کی قیمت فروخت18اعشاریہ آٹھ ایک اور قیمت خرید اٹھارہ اعشاریہ چھ ایک تھی۔ان کا اقتدار صرف 20ماہ قائم رہا۔6اگست1990کو جب ان کی حکومت برطرف کی گئی تو ڈالر اکیس اعشاریہ آٹھ پانچ روپے پر پہنچ گیا تھا۔
میاں نواز شریف کا پہلا دور حکومت
6نومبر1990 کو میاں نواز شریف پہلی مرتبہ وزیراعظم کے عہدے پر فائز ہوئے۔اس وقت ڈالر کی قیمت فروخت 22اور قیمت خریداکیس اعشاریہ سات آٹھ روپے تھی۔ 18جولائی1993کو جب وہ اوران کی حکومت مستعفی ہوئی تو ڈالر کی قیمت فروخت اٹھائیس اعشاریہ تین ایک اور قیمت خریداٹھائیس اعشاریہ دوروپے تھی۔
بے نظیر بھٹوکا دوسرا دور اقتدار
19اکتوبر1993کو اقتدار ایک مرتبہ پھر پیپلزپارٹی کے حصے میںآ یا۔اس وقت ڈالر کی قیمت خریدتیس اعشاریہ دو تین جبکہ فروخت انتیس اعشاریہ نو دوروپے تھی۔وزیراعظم بے نظیر بھٹو کے زیرقیادت یہ حکومت بھی اپنی میعاد مکمل نہیں کرسکی۔5نومبر1996میں جب ان کی حکومت کا خاتمہ ہوا تو ڈالر 43روپے پر پہنچا ہوا تھا۔
میاں نواز شریف کادوسرا دور حکومت
17فروری1997 کونواز شریف حکومت دوسری مرتبہ اقتدار میں آئی تو ڈالر کی قیمت خرید 41روپے اور فروخت 41اعشاریہ صفرپانچ پر جاری تھی۔یہ حکومت بھی اپنی میعاد پوری نہ کرسکی۔12اکتوبر1999 ان کی حکومت کے خاتمے کے وقت ڈالر کی قیمت فروخت54اعشاریہ تین چاراور خرید54 اعشاریہ تین نوروپے تھی۔
یاد رہے کہ میاں نواز شریف کے اس دور حکومت میں بھارتی جارجیت بڑھی ہوئی تھی۔بی جے پی بھارت میں حکمراں جماعت کے طور پر کام کررہی تھی۔پاکستان کے خلا ف نفرت کا اظہار کرتے ہوئے بھارت نے ایٹمی دھماکا کردیا تھا۔مجبوری میں پاکستان کو بھی جوابی طور پر ایٹمی دھماکا کرنا پڑا۔عالمی طور پر اس کا سخت ردعمل آیا اور پاکستان کو کئی قسم کی معاشی پابندیوں کا سامنا کرنا پڑا۔
جنرل پرویز مشرف کا دور اقتدار
12اکتوبر1999کو جنرل پرویز مشرف نے اقتدار سنبھالا تو اوپن مارکیٹ میں ڈالر کی قیمت فروخت54اعشاریہ تین چار اور خرید54اعشاریہ39روپے تھی۔18فروری2008کے انتخابات میں جنرل پرویزمشرف کی مخالف جماعتوں کے بعد ان کی اقتدار پر گرفت کمزور پڑگئی تھی۔19فروری2008میں ڈالر کی قیمت فروخت63 اعشاریہ ایک صفر اورقیمت خرید 63اعشاریہ تین صفر روپے تھی۔
پیپلزپارٹی کا چوتھا دور اقتدار
مارچ 2008میں اقتدار چوتھی مرتبہ پیپلزپارٹی کے حصے میں آیا۔25مارچ2008کو یوسف رضاگیلانی نے وزیراعظم کا عہدہ سنبھالا تواوپن مارکیٹ میں ڈالر کی قیمت خرید62 اعشاریہ آٹھ صفر اور فروخت63روپے تھی۔
اٹھارہ اگست2008 کو پرویز مشرف کے استعفیٰ کے وقت ڈالر کی خریدوفروخت 74اعشاریہ پانچ صفر سے75 اعشاریہ پانچ صفر پر ہورہی تھی۔اس موقع پر بعض ماہرین کا خیال تھا کہ ڈالر کی کہ قیمت وقتی ہے تاہم جنرل مشرف کے استعفے کے باوجود ڈالر واپس نہیں آیا۔
اندرونی اور بیرونی درپیش کئی چیلنجز کے ساتھ مارچ 2013 میں جب پی پی حکومت نے اپنی میعاد مکمل کی تو ڈالر 99روپے کا ہوچکا تھا۔روپے کی قدر سب سے زیادہ پیپلزپارٹی کے اسی دور حکومت میں کم ہوئی۔