11 نومبر 2015
وقت اشاعت: 6:5
سرکاری کارپوریشنز کا آڈٹ ، 9 ارب 86 کروڑ روپے کے فراڈ کی نشاندہی
جیو نیوز - اسلام آباد.....ڈپٹی اکاؤنٹنٹ جنرل نے کہا ہے کہ سرکاری کارپوریشنز کے آڈٹ میں 9 ارب 86 کروڑ روپے کے فراڈ کی نشاندہی ہوئی ہے ، اسٹیٹ بینک 5 ارب 40 کروڑ روپے کے ساتھ سر فہرست ہے ۔
سینیٹ کی قائمہ کمیٹی خزانہ کے اجلا س میں ڈپٹی اکاؤنٹنٹ جنرل نے بتایا کہ بتایا کہ سرکاری کارپوریشنز کے آڈٹ میں9 ارب 86کروڑ روپے کے فراڈ کی نشاندہی کی گئی ہے ، اسٹیٹ بینک میں 5 ارب 40کروڑ ، یوٹیلٹی اسٹورز کارپویشن میں 3 ارب 38کروڑ کے فراڈ کی نشاندہی ہوئی ہے۔ ایسے داروں میں پی آئی اے، اوگرا،پی ایس او، گیس کمپنیز، نیشنل بینک،زرعی ترقیاتی بینک،ا سٹیل ملز ، نیشنل فرٹیلائزر کارپوریشن بھی شامل ہے ۔
ڈپٹی اکاونٹنٹ جنرل نے گھوسٹ پنشنرز سے متعلق عبوری رپورٹ بھی پیش کی اور بتایا کہ بعض کیسز میں مرنے والے افراد اور ایک ہی شناختی کارڈ پر2 ،2 افراد کو بھی پنشن دی جا رہی ہے ۔
ایک کیس میں تو گریڈ 23 کا افسر بھی پنشن لے رہا ہے حالاں کہ 23 واں گریڈ ہی نہیں ہوتا ۔ نیشنل بینک گلبرگ لاہور کی برانچ سے 25گھوسٹ پنشنرز کی نشاندہی کی گئی، مکمل ریکارڈ کی فراہمی تک گھوسٹ پنشنرزکی نشاندہی مشکل ہے ، نیشنل بینک رکاوٹیں ڈال رہا ہے۔
چیئرمین ایف بی آر نے کمیٹی کو بتایا کہ پہلی سہ ماہی میں ریونیو کی وصولی میں 40ارب کا شارٹ فال رہا جبکہ اکتوبر میں 22فی صد اضافہ ہوا، اس وقت 210ارب روپے کے ری فنڈ زہیں جو ماضی میں جمع ہوئیں ، یکمشت ادا ئیگی مشکل ہے، حکومت سے بانڈ جاری کرنے کی درخواست کی ہے۔