تازہ ترین سرخیاں
 کاروبار 
17 نومبر 2015
وقت اشاعت: 9:15

ٹیکس، انوسٹمنٹ اور بچت بڑھا دیجئے ، آئی ایم ایف سے آزادی مل جائے گی، ماہین رحمٰن

جیو نیوز - کراچی......عاقب علی......پاکستان کے بارے میں اب یہ تاثر ختم ہوتا جارہا ہے کہ اس معاشرے میں مردوں کی اجارہ داری قائم ہے ۔حالیہ سالوں کا ہی جائزہ لیں تو ہر شعبے میں کسی نہ کسی خاتون کا نام نمایاں ضرور نظر آتا ہے مثلاًفلم سازی میں شرمین عبید چنائے،انفارمیشن ٹیکنالوجی میں ارفع کریم،کھیل کے شعبے میں ثنا میر۔ اسی طرح صحافت اور سیاست میں بھی بہت بڑے بڑے نام نمایاں نظر آتے ہیں۔

ایسی ہی ایک شخصیت ماہین رحمن ہیں ،جنہوں نے’ ایسیٹ مینجمنٹ‘ کے شعبے میں بین الاقوامی سطح پرایک بار پھر سبز پرچم کو سر بلند کیا۔ بین الاقوامی میگزین’ فور چیون‘ کا ان کے بارے میں کہنا ہے کہ وہ دنیا کی” ٹاپ ٹین“ خواتین میں پانچویں نمبر پر ہیں، جو فنانس کے شعبے میں گرانقدرخدمات انجام دے رہی ہیں۔انہیں عالمی میڈیا ’پاکستان کی بیسٹ منی منیجر‘ بھی قرار دے رہا ہے۔

اس حوالے سے وہ واحد مسلمان خاتون بھی ہیں جو کسی بھی ملکی معیشت کو خاص کر انویسٹمنٹ کے شعبے میں بہت آگے لے جانے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ پاکستان آئی ایم ایف کے قرضوں سے آسانی کے ساتھ جان چھڑاسکتا ہے۔

’آئی ایم ایف اور اس کے قرضے ‘ایک ایسا مسئلہ ہے جو پاکستان کی ہر حکومت کا اقتدار ملنے سے پہلے اور اقتدار ختم ہونے کے بعد سالوں تک پیچھے کرتا رہتا ہے لیکن ماہین کے نزدیک اس مسئلے کے جہاں بہت سے پیچیدہ حل ہیں وہیں ایک آسان حل ’سیونگ کی شرح ‘ کو بڑھانا بھی ہوسکتا ہے۔ اس حل سے متعلق جنگ ویب کو دیئے گئے ایک خصوصی انٹرویو میں ان کا کہنا تھا۔

” حکومت انویسمنٹ کے شعبے پر توجہ دے تو آئی ایم ایف کے قرضوں سے آزادی مل سکتی ہے ۔ اس سلسلے میں سب سے پہلے یہ بات سمجھتا ضروری ہے کہ ہم آئی ایم ایف سے قرضہ کیوں لیتے ہیں؟۔۔اس لئے کہ ہم اپنے اخراجات خود سنبھال نہیں پاتے۔ اخراجات کو سنبھالنے کیلئے ٹیکس یا پھر سرمایہ کاری کو بڑھانا ہوگا۔اپنی بچت کی شرح بھی بہتر بنانا ہوگی۔ بھارت میں شرح بچت فی الوقت 25فیصد سے زائد ہے جبکہ پاکستان میں یہ شرح 12فیصد ہے۔اگر ہم اخراجات کو توازن دینا چاہتے ہیں تو ہمیں اپنی شرح بچت 30فیصد تک لانا ہوگی۔یہ شرح جتنی زیادہ اور جلد ہوگی آئی ایم ایف کے قرضوں سے جان چھڑانااتنا ہی آسان اور اتنا ہی جلد ممکن ہوسکے گا۔ اب رہا یہ سوال کہ وزیرخزانہ کی توجہ اس طرف ہے یا نہیں اس کا اظہار وہ خودہی کرسکیں گے ۔ “

ایک سوال کے جواب میں ماہین نے مزید بتایا ”پاکستان کی آبادی20کروڑ ہےجبکہ ٹیکس صرف10لاکھ لوگ دیتے ہیں ۔ ٹیکس کی کمی کے حوالے سے وزیر خزانہ کی باتیں بالکل درست ہیں، کم از کم مزید1کروڑ 50لاکھ افراد کو ٹیکس نیٹ میں لانے کی ضرورت ہے۔یہ خیال بھی درست ہے کہ ڈائریکٹ ٹیکس تو لوگ کم ہی دیتے ہیں ،مگر’ ان ڈائریکٹ ٹیکس‘ تو ہر کسی سے لیا جارہا ہے اور اس کی شرح بھی کافی بھاری بھرکم ہے، جس میں کمی ہونی چاہیے۔“

ماہین رحمٰن کا کارنامہ یہ بھی ہے کہ انہوں نے فنانشل انویسٹمنٹ سیکٹرمیں کام کرنے والے ایک نجی ادارے کو جوائن کیا اس وقت کمپنی کا فنڈ 2بلین تھا اس کے بعد دو برس میں 4بلین اور اگلے دو برس میں 7بلین تک پہنچ گیا اور آج یہ فنڈز22بلین تک پہنچ چکے ہیں۔اس حوالے سے ان کا کہنا ہے۔

ابتدا میں کمپنی بہت چھوٹی تھی ،نقصان میں جاررہی تھی۔ہم نے ایسیٹ مینجمنٹ پر توجہ دی اور نئے ’فارمولے‘ کے تحت کام کرتے ہوئے آگے بڑھے۔ ایسیٹ مینجمنٹ بڑھانے کا سادہ فارمولہ یہ ہے کہ سرمایہ کو اچھا ریٹرن دیا جائے، تو وہ آپ کے پاس مزید سرمایہ کاری کیلئے تیار ہوتا ہے، جس سے فنڈر کا حجم بڑھتا ہے،لاگت اور اخراجات پورے ہوجاتے ہیں اور منافع آتا ہے۔اس وقت ہمارے پاس انکم اور اسٹاک فنڈز تھے۔میں نے اور ٹیم نے طے کیا کہ ہم اپنے ریٹرن کومارکیٹ میں سب سے بہتر بنادیں گے ۔ ہم نے محنت کی اور توجہ سے ہرایسیٹ کا جائزہ لیاکہ ہم ایسا کیا کریں کہ ہمارے ریٹرن بڑھ جائیں ۔ محنت کے بل پر ہمیں کامیابی ملی اور دو برس میں ہمیں اپنے فنڈز مارکیٹ میں بہتر سطح پر لانے میں کامیابی مل گئی۔

ماہین کا تعلق لاہور سے ہے ، وہ لاہور میں ہی پیدا ہوئیں،معاشیات اور فنانس میں انگلینڈ ماسٹرز کیا ۔اور پانچ برس تک امریکا اور سنگاپور میں کام کیا۔ پھر پاکستان لوٹ آئی۔ دو برس ایک نجی ادارے کے ریسرچ ڈیپارٹمنٹ کی سربراہی کی۔2007 سے ایک نجی ادارے کی چیف آپریٹنگ آفیسر ہیں جبکہ شوہر ایک لاجسٹک کمپنی کے ہیڈ ہیں۔

آج کی پاکستانی خواتین کے نام اپنے پیغام کے حوالے سے ان کا کہنا ہے ”ہمارے معاشرے میں عورت کاکردار گھرسے شروع ہوکر گھر ہی میں ختم ہوجاتا ہے۔شروع دن سے ہی لڑکی کی ذہن سازی کی جاتی ہے کہ اس کی ایک دن شادی کردی جائے گی ، اسے پرائے گھر جانا ہے ۔ایسے میں لڑکیاں سمجھ ہی نہیں پاتیں کہ خاند ان کے باہر بھی اس کی ذمہ داریاں ہیں،ہمیں اس رویے میں تبدیلی لانا ہوگی۔میرے ذہن میں یہ نہیں تھا اورنہ ہی مجھ پر شادی کیلئے دباؤ تھا ۔ گھر والے شادی کیلئے کہتے بھی تھے تو میں منع کردیتی۔ اصل میں جب آپ آگے جانا چاہتے ہیں تو آپ کو تھوڑی مزاحمت تو کرنا ہی پڑتی ہے ۔ معاشرے کی بہت سی لڑکیاں خاندانی پریشر برداشت نہیں کرتیں،گھر بیٹھ جاتی ہیں۔ اگروہ کچھ بڑا کرنے کا عزم رکھتی ہیں تو انہیں تھوڑا لڑنا تو پڑے گا۔اپنی سوچ اور کام سے گھروالوں کو آگاہ کرنا ہوگا ،آج کمپیوٹر کا دور ہے معلومات کا حصول مشکل نہیں رہا ،بس لڑکی کو اپنا دماغ کھولنے کی ضرورت ہے۔“

ماہین پوری طرح سے خواتین کے ملازمت کرنے کے حق میں ہیں اور اس کا بہت مثبت جواز پیش کرتے ہوئے وہ کہتی ہیں ”ملکی آبادی کا 51فیصد حصہ خواتین پر مشتمل ہے۔اگر آپ ان کو ملکی معیشت میں معاشی کردار ادا کرنے سے روک دیں گے تو بوجھ 49فیصد پر آجائے گا،جن میں سے آدھے بچے ہیں۔ ملکی معیشت اصل میں 25فیصد لوگوں کے کاندھوں پر ٹکی ہے، جوان کے ساتھ ناانصافی ہے۔اس میں بہتری کیلئے خواتین کو آگے لانا ہوگا۔حکومت ملازمتوں کے ساتھ ان میں ذاتی کاروبار کی حوصلہ افزائی کے اقدام کرے،ان کی آمد سے معیشت پر یقیناً مثبت اثرات پڑیں گے۔“

ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ ” عورت جب کام پر آتی ہے تو وہ بہت فوکسڈ ہوتی ہے۔اسے پتہ ہوتا ہے کہ 6سے 7گھنٹے میں کام سمیٹ دینا ہے کیونکہ گھر پہنچ کر ایک اور زندگی شروع کرنا ہوتی ہے، وہ فوراً فوراً فیصلے کرتی ہے۔ یہ صرف سی ای او لیول کی بات نہیں ہر سطح پر خواتین تیزی سے فیصلے کرتی ہیں۔میں یہاں بیٹھ کر چائے پینے اور گپے لگانا افورڈ نہیں کرسکتی کیونکہ مجھے کام ختم کرکے اپنی فیملی کی طرف لوٹنا ہے جو میری منتظر ہے ۔“

”پاکستان سے لوگ امریکا اور سنگا پور جانا چاہتے ہیں اور آپ وہاں سے نوکری چھوڑ اکریہاںآ گئیں “ اس سوال کے جواب میں ماہین کا کہنا تھا ”امریکا اور سنگا پور میں پاکستان جیسے مواقع نہیں۔وہاں انویسمنٹ انڈسٹری میں 40برس سے کام ہورہا ہے اس لئے وہاں نیاکرنے کیلئے کچھ نہیں۔بڑی کمپنی میں جتنا بھی اچھا کام کرلیں اس سے کمپنی پر تھوڑا ہی فرق پڑے گا جبکہ پاکستان میں اس سے آدھا کام بھی کیا جائے تو بہت بڑا فرق پڑے گاکیوں کہ یہاں کام کی گنجائش بہت زیادہ ہے۔ایسیٹ مینجمنٹ انڈسٹری پاکستان میں 10برس قبل شروع ہوئی ہے،اس لیے بہتر یہ ہے کہ وہاں سے سیکھ کر یہاں اس کی عملی شکل دی جائے۔“

پاکستان معیشت کی موجودہ حالت اور اس کے مستقبل کے حوالے سے ماہین کا کہنا ہے ” پاکستان معاشی لحاظ سے اس وقت اہم مقام پر ہے۔شرح سود ،تیل کی قیمت اور ٹریڈ بیلنس کم ہیں۔ملکی ڈیفیسٹ ساڑھے 4فیصد پر ہے۔ اعداد و شمار بہت حوصلہ مند ہیں۔مسئلہ صرف تب پیدا ہوتا ہے جب حکومتی پالیسیاں تسلسل کھو دیتی ہیں جس کے باعث سرمایہ کاری رک جاتی ہے۔مثلاً اگر کوئی کمپنی ایک فیکٹری لگانا چاہتی ہے تواس کا مالک سب سے پہلے نفع و نقصان دینے والے قوانین کا مطالعہ کرے گاکیوں کہ فیکٹری لگنے میں 2برس لگتے ہیں۔پروڈکشن شروع ہونے میں مزید ایک برس لگ جاتا ہے ،پھر کمپنی اپنا سرمایہ کور کرنے کیلئے 4برس کا پلان بھی ترتیب دے کر رکھتی ہے کیوں کہ اس نے اچھی آمدن کی امید پر ہی سرمایہ کاری کی ہوتی ہے مگر اس دوران اگر حکومت تبدیل ہوجاتی ہے یا وہ کبھی ایک ٹیکس ہٹا تی ہے اور کوئی دوسرا لگاتی ہے،ایک ڈیوٹی کم کرتی ہے تو دوسری میں اضافہ کردیتی ہے،اس سے کمپنی کا پلان ناقابل عمل بن جاتا ہے اور سرمایہ کار کیلئے غیر یقینی صورتحال پیدا ہوجاتی ہے۔ ایسے میں وہ نئی انڈسٹری لگانے کے بجائے رئیل اسیٹ ، اسٹاک مارکیٹ وغیرہ میں سرمایہ کاری کرتا ہے یا پھر بیرون ملک منتقل ہوجاتا ہے۔ اس سب کی وجہ سیکورٹی خدشات کے بجائے حکومتی پالیسیاں ہوتی ہیں جو سرمایہ کار کو روک دیتی ہیں۔ آٹوپالیسی یہ ساتھ یہی ہورہا ہے۔ آٹو پالیسی کے انتظار میں 3نئی غیر ملکی کمپنیوں سمیت دیگر کمپنیاں جو پہلے سے سرمایہ کاری کرچکی ہیں وہ مزید سرمایہ کاری پالیسی کے انتظار میں روک کر بیٹھی ہیں۔ آٹو پالیسی آئے تو جائزہ لے کر اس حوالے سے فیصلہ کیا جائے۔حکومت آٹو پالیسی لانے میں تاخیر کیوں کررہی ہے یہ تو وزیرخزانہ صاحب ہی بتاسکتے ہیں ، ہاں ملک میں سرمایہ کے مواقع کی بات کریں تو کئی ملکی اورغیر ملکی کمپنیاں ہر برس 30سے 40فیصد منافع کمارہی ہیں کیونکہ یہاں بہت کچھ کرنے کے مواقع موجود ہیں۔ ضرورت ہے تو بس حکومتی پالیسی کے ساؤنڈ ہونے کی۔

متن لکھیں اور تلاش کریں
© sweb 2012 - All rights reserved.