27 نومبر 2015
وقت اشاعت: 8:36
سعودی عرب، ’بن لادن گروپ‘ کا 15ہزار ملازمین کم کرنے کا اعلان
جیو نیوز - جدہ......شاہد نعیم......سعودی عرب کی نامور تعمیراتی کمپنی بن لادن گروپ اپنے ملازمین کی تعداد میں 15ہزار کی کمی کررہی ہے لیکن اس سے بن لادن گروپ کے زیر عمل تعمیراتی منصوبوں پر جاری سرگرمیوں پر کوئی خاص فرق نہیں پڑے گا۔
سعودی عرب کی ایک مقامی نیوز ویب سائٹ ’’سبق‘‘کی رپورٹ کے مطابق اس وقت بن لادن گروپ کے کل ملازمین کی تعداد قریباً دو لاکھ کے لگ بھگ ہے۔ برطانوی خبررساں ادارے رائٹرز نے ایک سعودی ذریعے کے حوالے سے بن لادن گروپ میں ملازمین کی چھانٹیوں کی اطلاع دی ہے لیکن اس کی جانب سے الریاض، جدہ اور دبئی میں واقع کمپنی کے دفاتر سے رابطہ کرنے پر ملازمین کی تعداد میں کمی کے حوالے سے کوئی جواب نہیں دیا گیا۔
سعودی عرب کی تعمیراتی صنعت سے وابستہ ایک ذریعے کا کہنا ہے کہ مملکت کا تعمیراتی شعبہ بہت ’سافٹ‘ ہے اور عمومی طور پر اس میں غیریقینی کی صورت حال پائی جاتی ہے۔ اس لیے یہ اندازہ لگانا بہت مشکل ہوتا ہے کہ کس منصوبے پر پہلے توجہ مرکوز کی جائے گی کیونکہ کمپنیوں کو بھی کوئی یقین نہیں ہوتا ہے کہ کون سا منصوبہ کب شروع کیا جائے گا اور اس کو کتنے عرصہ میں پایہ تکمیل کو پہنچایا جائے گا۔
ایک ذریعے نے بتایا ہے کہ بن لادن گروپ سے 15ہزار ملازمین کو فوری طور فارغ کیا جارہا ہے اور باقی کو عارضی طور پر جدہ میں اربوں ڈالرز مالیت کے ہوائی اڈے کی تعمیر کے منصوبے پر منتقل کردیا جائے گا۔
واضح رہے کہ سعودی وزارت محنت کی اصلاحات کے تحت اب نجی شعبے میں سعودی شہریوں کو کھپایا جارہا ہے اور انہیں ترجیحی بنیاد پر ملازمتیں دینے پر زوردیا جا رہا ہے جس کی وجہ سے 2011ء کے بعد سے تعمیراتی فرموں کے لیے خاص طور پر غیرملکی ورکروں کو ملازمتیں دینا ایک مہنگا سودا بن چکا ہے۔
ستمبر میں بن لادن گروپ کی حالیہ حج سیزن کے دوران مسجد الحرام کے توسیعی منصوبے پر کام میں مصروف ایک بڑی کرین طوفان کے نتیجے میں گر گئی تھی جس سے مسجد الحرام میں 107افراد شہید ہوگئے تھے۔اس واقعے کے بعد سعودی حکومت نے بن لادن گروپ کو نئے تعمیراتی ٹھیکے دینے کا عمل معطل کردیا تھا اور اس کے ڈائریکٹروں کے بیرون ملک جانے پر پابندی عائد کردی تھی۔
حکومت کی ابتدائی تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق کرین مناسب طریقے سے نصب نہیں کی گئی تھی اور متعلقہ انجینئر کو واقعے کا ذمے دار قرار دیا گیا تھا۔ بن لادن گروپ نے اپنی معطلی کے ردعمل میں کوئی بیان جاری نہیں کیا تھا۔