14 مارچ 2016
وقت اشاعت: 13:53
اسٹیٹ بینک کا مانیٹری پالیسی مستحکم رکھنے کا فیصلہ
جیو نیوز - کراچی......مرکزی بینک نے اگلے دو ماہ کیلئے مانیٹری پالیسی مستحکم رکھنے کا فیصلہ کرلیا۔گورنر اسٹیٹ بینک کا کہنا ہے کہ معیشت کے اہم شعبوں میں بہتری دیکھی گئی ہے تاہم زیر گردش نوٹوں کی تعداد میں اضافہ اور بینک ڈیپازٹس میں کمی باعث تشویش ہے۔
کراچی میں اگلے دو ماہ کی مانیٹری پالیسی کا اعلان کرتے ہوئے گورنر اسٹیٹ بینک اشرف وتھرہ کا کہنا تھا کہ رواں مالی سال بڑی صنعتوں کی پیداوار، زرمبادلہ کے ذخائر اور نجی شعبے کی جانب سے لیے گئے قرض کی صورت حال بہتر ہوئی ہے، اس کے علاوہ ملک کا مالی خسارہ بھی گزشتہ سال سے کم رہنے کی امید ہے۔
گورنر اسٹیٹ بینک کے مطابق بینک ڈیپازٹس میں عوام کی رقم کم ہورہی ہے جبکہ زیر گردش نوٹوں کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے جوتشویش ناک ہے۔
انہوں نے بتایا کہ رواں مالی سال مہنگائی کی رفتار 3سے 4فیصد کے درمیان رہ سکتی ہے،برآمدات کی کارکردگی عالمی منڈیوں میں اجناس کی قیمتوں پر منحصر ہے۔
اشرف وتھرہ کا کہنا تھا کہ رواں مالی سال بھی گزشتہ سال کی رفتار سے ترقی ہوگی، چند ہفتوں میں ایران کے ساتھ تجارت کے لیے بینکنگ چینلز کھل جائیں گے۔
گورنراسٹیٹ بینک کا کہنا تھا کہ اسٹیٹ بینک نے شرح سود 6 فیصد پر برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا ہے،شرح سود اور اجناس کی قیمتوں میں کمی سے کاروبار کو فائدہ ہوا،نجی شعبے کی جانب سے لیا جانے والا قرض بڑھ رہا ہے، بیرونی اور اندرونی سرمایہ کاری میں اضافہ ہوا ہے۔