20 مارچ 2016
وقت اشاعت: 20:48
پی آئی اے ہڑتال،مسافر پریشان ،ایکسپورٹ متاثر،کرایہ دگنا
جیو نیوز - کراچی.......لازمی سروس ایکٹ کے نفاذ کے باجود پی آئی اے ملاز مین کی ہڑتال جاری ہےجس کے باعث مسافر خوارہو گئے ، جبکہ پھل، سبزی اور گوشت کی ایکسپورٹ بری طرح متاثر ہوئی، نجی ائیر لائنوں نے کرائے دگنے سے بھی زیادہ کر دیئے۔
ائیر بلیو نے کراچی سے اسلام آباد کی بکنگ بند کر دی ،اپنی منزل پر پہنچنے کے لیے مسافروں نے ریلوے اسٹیشنز کا رُخ کر لیا۔پی آئی اےکے ترجمان کا کہنا ہے کہ ہڑتال کے باعث آج 100سے زائد پروازیں روانہ نہیں ہوسکیں،جس کے باعث 40 کروڑ سے زائد کا نقصان ہوا۔
ملک کے بیشتر ہوائی اڈوں پر پی آئی اے کے ناراض ملازمین کی ہڑتال کے باعث فلائٹ آپریشن معطل ہے اور قومی ائیر لائن کی کوئی پرواز کسی بھی ائیرپورٹ سے فضا میں بلند نہیں ہوسکی۔ ٹکٹنگ،کوریئر اور کارگو کے دفاتر بھی بند ہیں جس سے مسافروں کو شدید پریشانی کا سامنا ہے اور ہوائی اڈوں پرافراتفری کا عالم ہے۔
کراچی سے خیبر تک پی آئی اے کے ناراض ملازمین کے احتجاج کے باعث فضائی آمدو رفت کو بریک لگ گیا ہے۔ 200 سے زائد پروازیں متاثر ہوئی ہیںجس سے نقصان کا اندازہ ایک ارب روپے تک لگایا جارہا ہے۔
ادارے کی مجوزہ نجکاری اور لازمی سروس ایکٹ کے نفاذ کے بعد معاملات الجھتے جارہے ہیں۔کراچی میں دو قیمتی جانوں کے ضیاع کو لے کر جوائنٹ ایکشن کمیٹی نے آج سے فلائٹ آپریشن مستقل بند کرنے اور واقعے کا مقدمہ عدالت کے ذریعے درج کرنے کا اعلان کیا ہے۔ پالپا نے بھی جوائنٹ ایکشن کمیٹی کی ہاں میں ہاں ملائی ہے۔
ہڑتال کے دوران بڑے پیمانے پر احتجاج، دھرنوں اور ریلیوں کی وجہ سے اسلام آباد، کراچی، لاہور، پشاور،کوئٹہ، ملتان، بہاولپور، سکھر اور ملک کے دیگر شہروں کے ہوائی اڈوں پر پی آئی اے کا فلائٹ آپریشن شدید متاثر ہوا ہے، شمالی علاقوں کو جانے والی پروازں کو بھی موسم کے بعد اس نئے امتحان کا سامنا ہے۔
ایئرپورٹس کے اندر اور باہر ہزاروں مسافروں کا رش لگا گیا اور گاڑیوں کی لمبی قطاریں مسافروں میں مزید بے چینی کا سبب بن رہی ہیں۔ ہائی سیکیورٹی زونز میں احتجاج کے باعث سیکیورٹی انتظامات سنبھالنے میں بھی مشکلات کا سامنا ہے۔
کسی ممکنہ ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے انتظامیہ نے واٹر کینن اور بکتر بند گاڑیاں بھی طلب کرلیں۔ مختلف شہروں میں ہڑتالی ملازمین نے کراچی میں جاں بحق ہونے والے ساتھیوں کی غائبانہ نماز جنازہ بھی ادا کی۔