تازہ ترین سرخیاں
 کاروبار 
8 اپریل 2016
وقت اشاعت: 15:39

تیل کی قیمتوں میں کمی، پاکستانی معیشت کو بھی ممکنہ خطرہ۔۔!!

جیو نیوز - کراچی .....ویب ڈیسک.....ڈپٹی گورنر اسٹیٹ بینک آف پاکستان ریاض ،ریاض الدین نے کہا کہ دنیا بھر میں تیل کی قیمتوں میں خاطر خواہ کمی آئی ہے اور یہ رجحان کئی سالوں تک جاری رہے گا۔ملکی معیشت کو عالمی منڈی میں تیل کی کم قیمت سے فائدہ پہنچامگر دوسری طرف اس کی برآمدات میں بھی کمی واقع ہوئی ہے۔

ان کے بقول مشر ق وسطیٰ کے ممالک کی معیشتیں جو تیل کی برآمدات پر انحصار کرتی ہیں ان کی معیشت کو بھی عالمی منڈی میں تیل کی کم قیمتوں کے باعث نقصان پہنچے گا جبکہ پاکستان کو غیر ملکی ترسیلات زر کی بڑی تعداد انہی ممالک سے حاصل ہوتی ہے لہذا پاکستانی معیشت کو بھی خطرہ پہنچنے کا اندیشہ ہے۔

جامعہ کراچی کے اپلائیڈ اکنامکس ریسرچ سینٹر میں ’پاکستان میں مالیاتی پالیسی کے چیلنجز ‘ کے عنوان سے منعقدہ سیمینار سے خطاب میں ان کا کہناتھا کہ یہ تاثر پوری طرح درست نہیں کہ پاکستان میں فوجی ادوار میں قائم ہونے والی حکومت کی معیشتیں جمہوری ادوار حکومت کی معیشتوں سے بہتر تھی۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ ’’میں ان اعداد و شمار سے ناواقف ہوں جن سے یہ تاثر قائم ہوا ہے۔‘‘

رئیس کلیہ سماجی علوم پروفیسر ڈاکٹر مونس احمر نے کہا کہ فوجی ادوار حکومت میں بڑے پیمانے پر بیرونی امداد کے باعث معیشتیں مستحکم رہی ہیں،پاکستان کی مالیاتی پالیسی کو استحکام بخشنے کے لئے اس کی پیشہ ورانہ تشکیل ،باقاعدگی سے جائزہ اور ہر قسم کی دخل اندازی سے پاک رکھنے کی ضرورت ہے۔‘‘

ڈاکٹر مونس نےمزید کہا کہ یہ امر انتہائی خوش آئند ہے کہ اسٹیٹ بینک آف پاکستان اب ایک خودمختار اور ہر قسم کے اثر رسوخ سے پاک ادارہ ہے۔پاکستانی معیشت کے استحکام کے لئے ضروری ہے کہ درآمدات اور برآمدات اور ٹیکس ٹو جی ڈی پی کی شرح کے مابین فاصلوں کو کم کیا جائے۔

سیمینار کےکلیدی خطاب میں ریاض ،ریاض الدین کا کہناتھا کہ پاکستان رواں سال میں جی ڈی پی گروتھ کا ہدف حاصل نہیں کرپائے گاجس کی بڑی وجہ کپاس کی برآمد ات میں کمی ہے۔رواں سال پاکستان کا جی ڈی پی گروتھ ریٹ چار سے پانچ فیصد تک رہنے کا امکان ہے جو 5اعشاریہ5 کے ہدف سے کم ہے۔

ان کے بقول مشر ق وسطیٰ کے ممالک کی معیشتیں جو تیل کی برآمدات پر انحصار کرتی ہیں ان کی معیشت کو بھی عالمی منڈی میں تیل کی کم قیمتوں کے باعث نقصان پہنچے گا جبکہ پاکستان کو غیر ملکی ترسیلات زر کی بڑی تعداد انہی ممالک سے حاصل ہوتی ہے لہذا پاکستانی معیشت کو بھی خطرہ پہنچنے کا اندیشہ ہے۔

ڈپٹی گورنر اسیٹ بینک کا مزید کہناتھا کہ کسی بھی ملک کی مالیاتی پالیسی کا بنیادی مقصد عوام کی سماجی اور اقتصادی فلاح وبہبود ہوتا ہے،جی ڈی پی گروتھ ریٹ میں اضافے سے افراط زرمیں کمی واقع ہوتی ہے مگرکئی بار گروتھ ریٹ میں کمی سے افراط زربھی کم ہوتاہے ۔

ریاض ،ریاض الدین کے مطابق پاکستان کی مالیاتی پالیسی اب ایک خودمختار ادارہ’اسٹیٹیوری مانیٹری پالیسی کمیٹی ‘ تشکیل دیتا ہےجس میں مالیاتی ماہرین شامل ہوتے ہیں ۔ یہ ادارہ ہرقسم کے اثر ورسوخ سے آزاد ہے۔ ادارے کا قیام موجودہ دور حکومت میں ہی عمل میں آیا ہے۔

تقریب کے اختتام پر اپلائیڈ اکنامکس ریسرچ سینٹر کی سربراہ ثمینہ خلیل نےڈپٹی گورنراسٹیٹ بینک ریاض ،ریاض الدین کی آمد اور اہم معاشی امور پر طلبا کی رہنمائی پر شکریہ ادا کیا۔

متن لکھیں اور تلاش کریں
© sweb 2012 - All rights reserved.