17 جنوری 2015
وقت اشاعت: 18:37
زمرد دنیا کے چار قیمتی پتھروں میں سے ایک
سوات....... زمرد کا شمار دنیا کے چار قیمتی پتھروں میں ہوتا ہے، سوات میں چھ کلومیٹر کے رقبے پر پھیلی ہوئی زمرد کی کان حکومتی عدم توجہ کا شکار ہے۔زمرد سبز رنگ کا قیمتی پتھر ہے جو عام طور پر زیورات میں استعمال ہوتا ہے ۔ سوات میں زمرد کی سب سے بڑی کان مرکزی شہر مینگورہ سے تین کلومیٹر کے فاصلے پر فضاگھٹ کے مقام پر ہے۔ یہ کان انیس سو ساٹھ کے دہائی میں دریافت ہوئی تھی جہاں آج کل ڈیڑھ سو سے زیادہ مزدور کام کرتے ہیں۔ دنیا کی بڑی قیمتی کانوں میں شمار ہو نے والی یہ کان حکومت پاکستان نے ایک نجی کمپنی کو لیز پر دی ہوئی ہے۔ نجی کمپنی یہاں جدید آلات کی بجائے زمرد نکالنے کیلئے روایتی طریقے استعمال کر رہی ہے۔ مزدوروں کا کہنا ہے کہ کان میں کام کرنے کیلئے مہارت کی ضرورت ہوتی ہے اس لئے یہاں عام مزدور کام نہیں کرسکتے۔بجلی کی لوڈشیڈنگ کے باعث مزدوروں کو پہاڑ میں کھدائی کے لئے بعض اوقات ہاتھوں سے کام کرنا پڑتا ہے ۔ روایتی طریقوں سے کام کرنے کی وجہ سے نہ صرف وقت زیادہ لگتا ہے بلکہ کام بھی مہارت سے نہیں ہوتا جس سے حکومت اور ٹھیکیدار دونوں کو نقصان ہو رہا ہے۔ کان میں کام کرنے والے انجینئر قیصر خالد کا کہنا ہے کہ جدید مشینری کی فراہمی سے نہ صرف کام کی رفتار کو تیز کیا جاسکتا ہے بلکہ یہ قیمتی پتھر بیرونِ ملک ایکسپورٹ بھی کیا جاسکتا ہے۔ کان تک جانے والی سڑک بدستور کچی ہے جس پر چھوٹی گاڑیاں بھی بمشکل جا سکتی ہیں۔کان کو محفوظ بنانے کے لیے بھی کوئی انتظام موجود نہیں ۔وادی سوات قدرتی نظاروں کے ساتھ ساتھ معدنیات کی دولت سے بھی مالا مال ہے۔ماہرین کہتے ہیں کہ عدم توجہ کے باعث زمرد کی یہ کان بھی زبوں حالی کا شکار ہے۔