تازہ ترین سرخیاں
 دلچسپ خبریں 
21 اپریل 2016
وقت اشاعت: 3:2

افریقا میں ماہی گیری کا انوکھاتہوار


کراچی....انتخاب : مدیحہ بتول.... افریقی ملک ’’مالی‘‘ میںروایتی مگر عجیب و غریب رسومات پر مبنی،ماہی گیری کا تہوارمنایا جاتا ہےجس میں مچھلی پکڑنے کے مقابلوں کا انعقاد کیا جاتا ہے۔ اسےمذہبی اور تاریخی رسومات کا درجہ بھی حاصل ہے ۔

مالی کی ڈوکون کاؤنٹی میں 1500فٹ بلند عجیب و غریب اشکال کی چٹانوں سے گھرا ہوا بامبا نامی گاؤں ہے جہاں شدید گرمی پڑتی ہے جس کی وجہ سے یہاں کی ہر شے جھلس جاتی ہے لیکن یہاں واقع ایک جھیل ایسی بھی ہےجس میں موجود آبی مخلوق گرمی کے اثرات سے محفوظ رہتی ہیں یہی وجہ ہےکہ یہ جھیل مقامی لوگوں کے نزدیک مقدس مقام کا درجہ رکھتی ہے۔

گاؤں کے دیہاتی بڑی تعداد میں اس تہوار میں حصہ لیتے ہوئے ٹوکریاں ہاتھوں میں تھامے اس جھیل کی جانب ایک ساتھ دوڑ لگاتے ہیں اورمقررہ وقت میںتمام مچھلیاں پکڑنے کی کوشش کرتے ہیں۔

تہوار میں شریک ہر شخص انتہائی باریک کپڑے کے نیکرزیب تن کرتا ہے۔کاندھو ںپر چمڑے کے تھیلے اور ہاتھوں میں بانس کی بنی ہوئی ہلکی جالی نما ٹوکریاں اٹھائے، مخصوص دعائیہ گیت گاتے ہوئے تین اطراف سے جھیل کی جانب بڑھتا ہےجہاں اسےجھیل کے گہرے پانی میں لکڑی کی تین چھڑیاں گڑی ہوئی نظر آتی ہیں جنہیں تہوار کی مقدس علامت کہا جاتا ہے۔

پھرتمام شرکاء جھیل کے کنارے جمع ہوکر بگل کے انتظار میں تیارکھڑے ہوجاتےہیں ۔ حکم ملتے ہی تمام لوگ جھیل میں کودجاتے ہیں۔ ان کے کودنے سے مٹی کے بگولے اٹھنے لگتے ہیں جس سے عجیب وحشت ناک ماحول پیدا ہوجاتا ہے۔

اس ہڑبونگ میں لوگ مدہوشی کے عالم میں پانی میں ہاتھ ڈال کر مچھلیاں تلاش کرتے ہیں ، جیسے ہی کوئی مچھلی ہاتھ سے ٹکراتی ہے، وہ برق رفتاری سے ٹوکری کو پانی میں ڈال کر انہیںآگے جانے سے روکتے ہیں اور ہاتھ میں آنے والی مچھلیوں کو منہ سے پکڑتے جاتے ہیں۔

بہت سے لوگوں نے کئی مچھلیاں منہ میں دبائی ہوتی ہیں اور ان کے دانت لگنے سےوہ زخمی ہوجاتی ہیں، خون کے چھینٹے ان کے چہرے پر پھیل جاتے ہیں ، اس پر جھیل کی کیچڑ اور کائی انہیں انتہائی ہیبت ناک بنا تی ہے اور وہ پتھر کے زمانے کے انسان معلوم ہوتے ہیں، ساتھ ہی ساتھ منہ سے پکڑی جانے والی مچھلیوں کو ٹوکری میں ڈالتے جاتے ہیں۔

پندرہ منٹ گزرتے ہی سب کو رکنے کاحکم ملتا ہے،لوگ اپنے ہاتھ روک کر جھیل سے نکل آتے ہیں۔ ہر شخص کے کاندھے پر مچھلیوں سے بھرے ہوئے تھیلے ہوتے ہیںجو سارا سال ان کی غذائی ضرورت پوری کرنے کے علاوہ معاشی ذریعہ بھی بنتی ہیںاور یہ دیہات کے باسیوں کے نزدیک سال بھر تک متبرک غذا کے طور پر استعمال کی جاتی ہے۔

اس تہوار میںپاکیزگی کا خاص خیال رکھا جاتا ہے، اس میںہر عمر کے مرد موجود ہوتے ہیں مگرخواتین کو بعض وجوہات کی بنا پر شرکت کی اجازت نہیں ہے، وہ اس دن گھروں میںمحدودرہتی ہیں۔

متن لکھیں اور تلاش کریں
© sweb 2012 - All rights reserved.