28 اپریل 2016
وقت اشاعت: 23:46
امریکا میںبارش کے لئے’ خوں ریز نسوانی جنگ ‘
کراچی....خواتین میں زبانی کلامی لڑائیاں صرف ہمارے ہی گلی کوچوں میںعام نہیں بلکہ امریکا جیسے ترقی یافتہ ملک میں بھی خواتین ایک دوسرے سے لڑتی جھگڑتی ہیں جس میں تھپڑوں، گھونسوں اور لاتوں کا بھی آزادانہ استعمال ہوتا ہے،یہاں تک کہ بسا اوقات یہ ایک دوسرے کو لہو لہان بھی کردیتی ہیں۔
جی ہاں۔۔’ خوں ریزنسوانی جنگ‘ امریکا میں بھی عام ہے تاہم امریکی ریاست میکسیکو کے شہر ناہو وامیںخشک سالی کے خاتمے اوربارش کے دیوتا کو خوش کرنے کے لیےبھی خصوصی طور پرخواتین کے درمیان خون ریز جنگ لڑی جاتی ہے جسے باقاعدہ ایک تہوار کی حیثیت حاصل ہے ۔ اس کا انعقاد ہر سال مئی میں ہوتا ہے۔
اس جنگ کا مقصد اپنےحریف کے چہرے، سر اور بدن کواس حد تک لہولہان کرنا ہوتا ہے کہ خون بہتا ہوا زمین پر گرے لیکن اسے گرنے سے پہلے ہی برتنوں اور بالٹیوں میں جمع کرلیا جاتا ہے جسے بعدمیں کھیتوں میں ڈالا جاتا ہے۔
اس علاقے کےلوگوںکاعقیدہ ہے کہ ان کھیتوںمیں خواتین کا لہو ڈالنے کے بعد بارش کا دیوتا اپنا قہر ختم کرکے ان پر مہربان ہوجاتا ہے۔یہ قدیم طریقےانہیں اپنےآب اجداد سے ورثے میں ملے ہیں۔
تہوار کےدن علاقے کی خواتین علی الصباح بیدار ہوکر کھانا تیار کرتی ہیںجس میں چاول، مرغی، ابلےہوئے انڈے اور روٹیاں شامل ہوتی ہیں۔ اس کے بعدیہ خواتین خوراک کا یہ تمام سامان اکٹھا کرکے لڑائی کے میدان میں پہنچ جاتی ہیں۔
میدان کی بھی رنگ برنگےمہکتے ہوئے پھولوں سے سجاوٹ کی جاتی ہے جس کے اطراف خواتین کے لائے ہوئے کھانے سجائے جاتے ہیں۔
اس لڑائی میں زیادہ تر جوان العمر اور صحت مند لڑکیوں کا انتخاب کیا جاتا ہے۔ خواتین کی خونی جنگ شروع ہونے سے قبل دعائیہ تقریب منعقد ہوتی ہے ۔ تماش بین دائرے کی شکل میںبیٹھ جاتے ہیں۔اس کے بعد یہ لڑکیاںچوٹیاں کس کر میدان میں اتر آتی ہیں۔
یہ خونی لڑائی وقفے وقفے سے سورج غروب ہونے تک جاری رہتی ہے۔ اندھیرا پھیلنے کے بعد لڑائی ختم ہوجاتی ہے اورلہو لہان خواتین ایک دوسرے سے گلے ملتی ہیں ۔ اپنے ساتھ لایا ہوا کھانا اسی میدان میں بیٹھ کر ایک ساتھ کھاتی ہیں۔
مردخون سے بھری بالٹیاں اور برتن لیے ان کے ہمراہ ہوتے ہیں۔ اگلی صبح ہر کھیت میں تھوڑی تھوڑی مقدار میں خون ڈالا جاتا ہے۔