28 اگست 2015
وقت اشاعت: 17:15
احتجاج کرنیوالی ہیلتھ ورکرزصوبائی وزراءکی یقین دہانی کے بعد منتشر
کراچی.....لیڈی ہیلتھ ورکرز نے اپنے مطالبات کی منظوری اور 5ماہ کی تنخواہ نہ ملنے کے خلاف سندھ اسمبلی کے باہر احتجاج کیا جس کے باعث اطراف کی سڑکوں پر شدید ٹریفک جام ہوگیا۔ صوبائی وزرا جام مہتاب اور نثار کھوڑو کی یقین دہانی کے بعد مظاہرین منتشر ہوگئے۔ لیڈی ہیلتھ ورکرز صبح پریس کلب پر مظاہرہ شروع کیا۔ ان کا مطالبہ تھا کہ انہیں 5ماہ کی تنخواہ جاری کی جائے۔ بعد میں تمام ورکرز پریس کلب سے سندھ ہائیکورٹ پہنچیں اور عدالت کے سامنے دھرنا دیا اور نعرے بازی کی۔سندھ ہائیکورٹ پر لیڈی ہیلتھ ورکرز سے بات چیت کیلئے حکام پہنچے تاہم مذاکرات ناکام ہونے کے بعد لیڈی ہیلتھ ورکرزنے سندھ اسمبلی کارخ کیا جہاں پولیس اہلکاروں نے انہیں مین گیٹ تک محدود کردیا۔ لیڈی ہیلتھ ورکرزنے سندھ اسمبلی گیٹ پر ہی دھرنا دے دیا۔ اس دوران 4لیڈی خواتین بیہوش ہوگئیں جنہیں طبی امداد کے لیے اسپتال منتقل کردیا گیا۔ احتجاج کے دوران وزیراعلی سیدقائم علی شاہ بھی اسمبلی پہنچے تاہم مظاہرین سے ملے بغیر ایوان میں چلے گئے۔ بعد میں وزیر صحت جام مہتاب اور وزیر اطلاعات نثار کھوڑو نے لیڈی ہیلتھ ورکرز سے ملاقات کی اور انہیں تنخواہوں کی فراہمی یقین دہانی کرائی،جس پر لیڈی ہیلتھ ورکرز نے احتجاج ختم کردیا۔ تنخواہیں فوری ادا کردی جائے گی، ملازمتوں پر مستقل کیا جائے گا۔ لیڈی ہیلتھ ورکرز کے احتجاج کے دوران سندھ اسمبلی جانے والی سڑکوں پر پولیس کی بھاری نفری تعینات کی گئی تھی۔ احتجاج کے دوران ٹریفک جام رہا اورٹریفک پولیس اہلکار ٹریفک کنٹرول کرنے میں ناکام رہے۔