تازہ ترین سرخیاں
 صحت 
25 اکتوبر 2015
وقت اشاعت: 6:43

پولیو سے بچائو ممکن ہے

اسلام آباد......جویریہ صدیق......پولیو ایک ایسا مرض ہے جو عمر بھر کی معذوری دے جاتا ہے، پولیو وائرس ایک انسان سے دوسرے انسان میں انسانی فضلے،گندے پانی اور جراثیم آلود کھانے سے پھیلتا ہے، یہ بیماری بچوں پر زیادہ حملہ آور ہوتی ہے۔
اس کی ابتدائی علامات میں بخار،جسم میں درد،الٹیاں آنا،سر میں درد،گردن میں کھچائو شامل ہے، بعد ازاں یہ بیماری جسم کو مفلوج کردیتی ہے، اس بیماری کا کوئی علاج دستیاب نہیں ہے.بچائوکا واحد حل صرف ویکسین ہے، اگر بچوں کو اس بیماری سے بچانے کے لئے ویکسین کی خوراک پانچ سال کی عمر تک ملتی رہے تو ہم انہیں اس مرض سے بچایا جاسکتا ہے۔

پاکستان میں غربت ،آگاہی کی کمی ،صاف پانی کی عدم دستیابی، باتھ رومز کی کمی اور صحت و صفائی کے اصولوں پر کاربند نا ہونے کی وجہ سے یہ مرض 2010 کے بعد پھر شدت اختیار کرگیا، اس کے ساتھ ساتھ دہشت گردی امن و امان کی خراب صورتحال اور صحت کی سہولیات کی عدم دستیابی کےباعث بچے اس موذی مرض کا شکار بنے اور یہ ملک کے دیگر حصوں میں پھیلا،ہیلتھ ورکرز کو دہشت گردوں کے زیر اثر علاقوں میں جانے کی اجازت نہیں تھی،ان عوامل کے ساتھ پاکستانی عوام کی توہم پرستی نے بھی اس مرض کو بڑھایا کہ اینٹی پولیو ویکسین میں حرام اجزا ہیں اور یہ بچوں کو مستقبل میں بانجھ بنا دیتی ہے،جبکہ ایسا کچھ نہیں ہے یہ صرف مفروضہ ہے۔

رہی سہی کسر ڈاکٹر شکیل آفریدی نے پوری کردی اس کے بعد سے ہیلتھ ورکرز پر حملوں میں شدت آئی اور متعدد اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے،صورتحال یہاں تک آپہنچی ہے کہ فوج رینجرز کی نگرانی میں بچوں کو انسداد پولیو ویکسین کے قطرے پلائے گئے۔

2010 میں پاکستان میں پولیو کیسز کی تعداد 144 تھی،2011 میں 198 ،2012 میں 58 اور 2013 میں 93 ہوگئی، 2014 میں پولیو کسیز ریکارڈ 306 کی سطح پر پہنچ گئےجو پوری دنیا کے پولیو کیسز کا 80 فیصد تھا،پولیو وائرس شام،اسرائیل اور غزہ منتقل ہوا تو عالمی ادارہ صحت نے پاکستان پر سفری پابندیاں عائد کردی اور ہر پاکستانی پر پولیو ویکسین کا سرٹیفکیٹ لازم کردیا گیا۔

اس کے پیچھے بہت سے عوامل کار فرما تھے،تاہم آپریشن ضرب عضب کی وجہ سے جیسے جیسے امن و امان کی صورتحال میں بہتری آئی ویسے ہی انسداد پولیو مہم ان علاقوں میں بھی ہوئی جن کے بارے میں پہلے سوچا بھی نہیں جاسکتا تھا،بہتر منصوبہ بندی اور امن و امان کی بہتر صورتحال کے باعث 2015میں اب تک صرف 38 پولیو کیسز سامنے آئے ہیں جوکہ گذشتہ سال کے مقابلے میں بہت بہتر صورتحال ہیں،اکتوبر میں 14 ملین بچوں کو پولیو سے بچائو کے قطرے پلائے گئے۔

وزیر اعظم کے انسداد پولیو سیل کی فوکل پرسن عائشہ رضا فاروق کے مطابق جن علاقوں میں ماضی میں پہنچنا مشکل تھا ضرب عضب کی کامیابی کے بعد ہیلتھ ورکرز نے ان علاقوں میں جاکر بچوں کو انسداد پولیو ویکسین پلائی جس کے باعث اس سال حیران کن نتائج سامنے آئے، انہوں نے کہا کہ پولیو کیسز میں اس سال 85 فیصد کمی ہوئی ہے، ملک بھر کے 37 علاقوں سے پولیو کے پھیلائو کا سبب بننے والے پانی کے سیمپل لئے گئے جس کے مطابق اب پولیو کی شرح 19 فیصد ہے جوکہ گذشتہ سال 35 فیصد تھی۔

انہوں نے کہا کہ ہم نے ایمرجنسی ایکشن پلان تیار کرکے پورے ملک میں نافذ عمل کیا ہے تاکہ ان بچوں کو بھی ٹریس کیا جاسکے جوکہ پولیو ویکسین سے محروم رہ گئے ہیں۔

عائشہ رضا فاروق نے بتایا کہ ہم وزیر اعظم پاکستان میاں محمد نواز شریف کی سربراہی میں شب و روز انسداد پولیو کے لئے کام کررہے ہیں، ہمارا فوکس اس وقت ہیلتھ ورکرز پر ہے ان کی استعداد کار میں اضافہ کرکے ہم مزید بہتر نتائج حاصل کرسکتے ہیں،ہمارے ویکسنٹرز سارے نظام میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتے ہیں۔

حکومت نے اس سال اپنے اہداف کامیابی سے حاصل کئے ہیں لیکن پولیو کے مکمل خاتمے کے لئے عوام کو بھی آگے آنا ہوگا،اپنے بچوں کو لازمی طور پر پولیو ویکسین پلائیں،پاکستان کے جید علماء اس بات پر متفق ہیں کہ اس میں کوئی حرام چیز نہیں ہے اس کے ساتھ پاکستان ڈرگ اتھارٹی نے بھی اس کے حلال ہونے کی تصدیق کی ہے، جہاں تک اس سے بانجھ ہوجانے والی بات ہے یہ بھی مفروضہ ہے یہ ویکسین صرف پولیو سے بچاتی ہے۔

اس کے ساتھ حکومت کا بھی یہ فرض ہے کہ وہ صاف پانی کی فراہمی کو ممکن بنائے، نکاسی آب کا مکمل نظام بنائیں اور حفظان صحت کے اصولوں کے بارے میں عوام کو آگاہی دیں، پولیو رضاکاروں اور ہیلتھ ورکرز کی تنخواہ میں اضافہ بھی بہت ضروری تاکہ وہ بہتر طریقے سے کام کرسکیں۔

حکومت ، پاک فوج ، سول سوسائٹی ، علماء کرام، میڈیا اور عالمی ادارے سب مل کر کام کریں گے تو 2016 میں پولیو کے پاکستان سے مکمل خاتمے کا ہدف حاصل کیا جاسکتا ہے۔

متن لکھیں اور تلاش کریں
© sweb 2012 - All rights reserved.