تازہ ترین سرخیاں
 صحت 
29 مارچ 2016
وقت اشاعت: 20:49

کینسر سے آگاہی ضروری ہے

اسلام آباد...جویریہ صدیق ...چار فروری کو کینسر کا عالمی دن منایا جاتا ہے۔اس دن کو منانے کا مقصد عوام الناس میں اس موذی مرض کے حوالے سے آگاہی پھیلانا ہے۔کینسر انسانی خلیوں کی ابنارمل نشوونما کا نام ہے۔جسم میں خلیات معمول کی نشوونما جاری نا رکھ سکیں اور تیزی سے بڑھنا شروع کریں تو اس سے سرطان پیدا ہوتا ہے۔


ہمارا جسم خلیات سے مل کربنا ہے۔قدرت کے نظام کے تحت یہ خلیے بنتے اور ختم ہوجاتے ہیں اور پھر نئے بن جاتے ہیں۔بعض اوقات جب نئے خلیے بھی بنتے رہیں اور پرانے ختم نا ہوں اور غیر ضروری خلیے وہیں ٹھہر جائیںتو ان اضافی خلیوں کو کینسر کہا جاتا ہے۔ماحولیاتی آلودگی اور حفظان صحت کے اصولوں کے مطابق زندگی نہ گزارنا کینسر کا باعث بنتا ہے۔

عالمی ادارہ صحت کے مطابق ہر سال آٹھ اعشاریہ دو ملین افراد کینسر کے باعث اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں۔یعنی سالانہ تیرہ فیصد اموات کینسر کے باعث ہوتی ہیں۔گذشتہ دو دہائیوں میں سرطان میں ستر فیصد اضافہ ہوا ہے۔

تیس فیصد کینسر سے ہونے والی اموات کے پیچھے تمباکو نوشی ہے۔کینسر کے باعث جاں بحق ہونے والے ستر فیصد افراد کا تعلق ترقی پذیر ممالک سے ہے تاہم جلد تشخیص اور مناسب علاج کی وجہ سے اس سے صحت یاب ہونے والے افراد کی تعداد اب دگنا ہوگئ ہے۔

کینسر کی سو سے زائد اقسام ہیں جوجسم کے کسی بھی حصے کو متاثر کرسکتی ہیںجن میں عالمی سطح پر مردوں میں پھیپھڑوں، معدے، جگر،بڑی آنت ،خوارک کی نالی ،دماغ گردن اور منہ کا سرطان سب سے زیادہ ہوتا ہے۔عورتوں میں سب سے زیادہ چھاتی کا سرطان،سرویکل کینسر،بڑی آنت کا کینسر،پھیپھڑوں کا سرطان عام ہے۔

شفاء انٹرنیشنل سے منسلک ماہر امراض کینسر ڈاکٹر محمد فرخ کہتے ہیں کہ کینسر ہونے کے پیچھے بہت سے عوامل کارفرما ہیں۔اگر پاکستان کی بات کریں تو ملک میں ہر سال ڈیڑھ لاکھ کینسر کے نئےمریض سامنے آتے ہیںجن میں سے ایک لاکھ اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں۔

ایک اندازے کے مطابق ہر ایک لاکھ پاکستانیوں میں 98مرد اور128 خواتین کینسر کا شکار ہوتی ہیں۔اس کی بڑی وجہ تمباکو نوشی ، شراب نوشی ،چھالیہ،شیشہ،نسوار اور گٹکے کا استعمال ہے۔اس کے ساتھ وزن کی زیادتی ،ورزش نا کرنا اس کا دوسرا بڑا سبب ہے۔

تیسری وجہ ماحولیاتی آلودگی ہے ۔صنعتوں سے نکلنے والا زہریلا مادہ جو پانی اور زمین کو زہریلا کر رہا ہے اور اس طرح کی زمین میں کاشت کی جانے والی سبزیاں کھانے سے بھی کینسر کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ٹریفک اور صنعتوں کا دھواں،موبائل کا مسلسل استعمال، تابکاری، موروثیت بھی اس کے ہونے کی ایک وجہ ہے لیکن اس سے صرف دس فیصد کیسز سامنے آتے ہیں۔

پاکستانی خواتین سب سے زیادہ بریسٹ کینسر کا شکار ہورہی ہیں۔ہر آٹھ میں سے ایک اس کے خطرے کی زد میں ہے۔خواتین کو باقاعدگی سے اپنا معائنہ کرنا چاہیے۔کسی بھی نا ٹھیک ہونے والے زخم یا گلٹی کی صورت میں فوری طورپر ڈاکٹر سے رابطہ کریں ۔پاکستانی خواتین میں منہ ناک گلا ، سرویکس ، اوریز اور خون کا سرطان زیادہ ہوتا ہے جبکہ پاکستانی مردوں میں سراور گردن کا سرطان ،پھیپھڑوں کا سرطان ،بڑی آنت کا سرطان،جگر کا سرطان اور خون کا سرطان زیادہ ہوتا ہے۔

اسکرینگ ،مختلف ٹیسٹ ، الٹرا ساونڈ ،خون کا ٹیسٹ،انڈو اسکوپی ،سٹی اسکین ،بائوپیسی کے ٹیسٹ کے ذریعے سے کینسر کی تشخیص کی جاتی ہے۔ ہر کینسر کی ادویات اور علاج الگ ہیں اور معالج ہی تشخص کے بعد علاج شروع کرسکتا ہے۔علاج ادویات ، ریڈیو تھراپی ، کمیو تھراپی ، سٹم سیل تھراپی ، ٹارگٹ تھراپی ،ہارمون تھراپی کے زریعے سے کیا جاتا ہے۔

تمباکو نوشی سے پرہیز کریں کیونکہ یہ صرف آپ کو نہیں آپ کے اہل خانہ کو بھی کینسر میں مبتلا کرسکتا ہے۔سگرٹ پینا اور اس کا دھواں دونوں کینسر کا باعث بنتے ہیں،تیس فیصد سے زائد کینسر کا خطرہ صرف تمباکو نوشی چھوڑ کر ختم کیا جاسکتا ہے۔اس کے بعد شراب نوشی ترک کی جائے ہمارے مذہب میں ہے کہ شراب حرام ہے ۔یہ جگر کو ناقابل تلافی نقصان پہنچاتی ہے۔لیور سکڑ جاتا ہے اور کینسر میں مبتلا ہو جاتا ہے۔

غیر ازدواجی تعلقات سے پرہیز کریں اس سے ایچ پی وی وائرس پھیلتا ہے جوکہ رحم کا کینسر منہ کا کینسر،اینل کینسر،وجائینل کینسر،سرویکل کینسر اور گلے کے کینسر کا باعث بنتا ہے۔بازار کا کھانا کھانے سے پرہیز کریں پانی ابال کر پیئں۔

ڈاکٹر فرخ کے مطابق سیل فون میں تھری جی صرف اس وقت استعمال کریں جب ضرورت ہو۔موبائل اچھی کمپنی کا استعمال کریں اپنے جسم سے دور رکھیں بلیو ٹوتھ یا سپیکر کا استعمال کریں ۔اس سے نکلنے والی الیکٹرو میگنیٹک ریڈیشن صحت کے لیے مضر ہے،طویل گفتگو کے لیے لینڈ لائن استعمال کریں۔خواتین معیاری میک اپ پراڈکٹس استعمال کریں۔اناج کو نمی والی جگہ پر سٹور نا کریں۔سفید اور کالے سوڈا ڈرنک ہرگز نا پئیں،ہر ہفتے ایک سو پچاس منٹ واک کریں خود کو موٹاپے سے بچائیں،غذا کو سادہ رکھیں۔تازہ پھل سبزیاں،انڈا لوبیا مچھلی بکرے کا گوشت اور چکی کا آٹا استعمال کریں۔ڈبے میں بند کھانے،سرخ گوشت، فارمی مرغی ،مصنوعی رنگ والی اشیاء کھانے سے پرہیز کریں۔دھوپ میں سن اسکرین کریم کا استعمال کریں۔سب سے اہم گھی جب اپنی سنہری رنگت تبدیل کرلے اس میں چیزیں تلنا بندکردیں اور گھی تیل کو پھینک دیں۔

متن لکھیں اور تلاش کریں
© sweb 2012 - All rights reserved.