1 اپریل 2016
وقت اشاعت: 8:27
لاہور میں دواؤں کی قیمتوں میں 25 سے 30 فی صد تک اضافہ
لاہور.........لاہور میں متعدد ملٹی نیشنل کمپنیوں کی ادویات کی قیمتوں میں 25 سے 30فیصد تک اضافہ کر دیا گیا،ان میں سے زیادہ تر ادویات ایسی ہیں جو عام بیماریوں کے علاج کیلئے استعمال ہوتی ہیں۔ترجمان فارما بیورو کے مطابق ادویات کی قیمتوں میں اضافہ حکومتی ڈرگ پالیسی کے تحت کیا گیا ہے۔
ملٹی نیشنل کمپنیوں کی جانب سے تیار کردہ ادویات میں خود ساختہ اضافہ بخار،نزلہ،زکام،پیٹ درد، خون پتلا کرنے اور دل کے امراض میں استعمال ہونے والی ادویات پر کیا گیا،نئی قیمتوں پر عمل درآمد جنوری 2016 سے کیا گیا ہے،قیمتوں میں اضافہ ہوتے ہی بہت سی ادویات مارکیٹ سے غائب کر دی گئیں،کچھ ادویات نئی قیمتوں کے ساتھ دستیاب ہیں تاہم آدھے سر کی درد،الرجی اور دیگر ادویات سرے سے نایاب ہیں۔
محکمہ صحت پنجاب نے پرانی ادویات کو نئی قیمت پر فروخت کرنے کا نوٹس لیتے ہوئےڈرگ انسپکٹرز کو ہدایت کی ہے کہ ذخیرہ اندوزی کرنیوالے میڈیکل اسٹورز پرچھاپے مارے جائیں اور ان کے خلاف سخت کارروائی کی جائے۔ ادھر فارما بیورو کے ترجمان کا کہنا ہے کہ ادویات کی قیمتوں میں اضافہ، حکومتی ڈرگ پالیسی کے تحت قانونی طریقے سے کیا گیا ہے۔
ترجمان کے مطابق حکومت نے پہلی مرتبہ ادویات کی قیمتوں کے لیے طریقہ کار وضح کیا ہے، اضافہ صرف ان ادویات کی قیمتوں میں کیا گیا ہے جن کی پیداواری لاگت قیمتوں سے زیادہ تھی۔ ترجمان کے مطابق صارفین ان ادویات کی متبادل برآمد شدہ ادویات مہنگے داموں خرید رہے تھے۔