5 مارچ 2011
وقت اشاعت: 20:48
سندھ اسمبلی کے وقفہ سوالات کے دوران گدھوں کا چرچا
جنگ نیوز -
کراچی …سندھ اسمبلی کے اجلاس میں وفقہ سوالات کے دوران گدھوں کا بڑا چرچا رہا ، اراکین اسمبلی کے ساتھ اسپیکر پر اس موضوع پرکسی سے پیچھے نہیں رہے ۔ اجلاس میں وفقہ سوالات کیلئے محکمہ آبپاشی کا دن مقرر تھا تاہم صوبائی وزیر آبپاشی جام سیف اللہ دھاریجو کی اسلام آباد میں ایک اہم اجلاس میں شرکت کے باعث ان کی درخواست پر اسپیکر نے یہ دن لائیو اسٹاک کیلئے مقررکردیا ۔وفقہ سوالات کے دوران رکن اسمبلی ہیر سوہو نے سوال کیا کہ کیا ٹنڈو غلام علی میں تیس کروڑ روپے کی رقم سے گدھوں کا فارم کھولا گیا ہے ؟جواب میں صوبائی وزیر لائیو اسٹاک عابد حسین جتوئی نے جواب دیا کہ ایسا کوئی فارم نہیں کھولا گیا ۔ضمنی سوال پر پوچھا گیا کہ کیا دیگر جانوروں کی طرح ضرورت پڑنے پرگدھے بھی درآمد کرنے پڑیں گے تو اس موقع پر صوبائی وزیر کی بجائے اسپیکر نے آبزرویشن دی کہ ہم گدھوں میں خود کفیل ہیں، درآمد کرنے کی کوئی ضرورت نہیں ، اس آبزرویشن پر اسمبلی میں مسکراہٹیں بکھر گئیں اور ہال کا ماحول خوشگوار ہوگیا ۔ایک سوال پر صوبائی وزیر نے کہا کہ صوبائی حکومت کے تحت لائیو اسٹاک کو صنعت کا درجہ دینے کی کوئی تجویز زیر غور نہیں ،ایک سوال کے جواب میں صوبائی وزیر نے کہا کہ صوبے میں دودھ ذخیرہ کرنے کے مراکز اور پراسیسنگ یونٹس کی تعداد آٹھ ہے ، عابد جتوئی نے کہا کہ صوبے میں کل786 ویٹرنری مراکز ہیں جبکہ پچاس نئے قائم کئے جائیں گے ، ایک ضمنی سوال پر عابد جتوئی نے بتایا کہ وٹرنری مراکزمیں 350 سے زائد ڈاکٹرز کام کررہے ہیں ، ہر مرکز میں چار سے پانچ افرادکا اسٹاف موجود ہوتا ہے۔انہوں نے وضاحت کی کہ صوبے میں35 سے زائد خواتین ویٹرنری ڈاکٹرز بھی موجود ہیں۔مسلم لیگ ق کے رکن شہر یار مہر کے سوال کہ کیا یہ حقیقت ہے کہ سندھ سے مستقبل بنیاد پر مویشی ایران اسمگل کئے جاتے ہیں کے جواب میں عابد جتوئی کا کہنا تھا کہ مویشی اسمگل کئے جانے کی رپورٹس موجود ہیں ،تاہم اسمگلنگ کی روک تھام وفاقی حکومت کا معاملہ ہے اور صوبائی حکومت نے یہ معاملہ وفاق کے سامنے اٹھایا گیاہے۔