29 مئی 2011
وقت اشاعت: 5:59
ورلڈ کپ: 162فیصلوں پر نظرثانی، علیم ڈار کی کامیابی کا تناسب 100فیصد
جنگ نیوز -
کولمبو…ورلڈ کپ کے ابتدائی42میچوں میں162فیصلے نظر ثانی کیلئے ٹیکنالوجی کے حوالے کئے گئے،35فیصلے تبدیل ہوئے لیکن اس میں علیم ڈار کا کوئی فیصلہ نہیں تھا، جنوبی افریقی ٹیم نے یو ڈی آر ایس کا سب سے بہتر استعمال کیا جس کی کامیابی کا تناسب38فیصد سے زیادہ رہا۔اس کے برعکس آئرش ٹیم کے گیارہ فیصلوں میں سے ایک بھی کامیاب نہیں رہا۔ٹیکنالوجی کی آنکھ یعنی پاکستان کے علیم ڈار کو پانچ میچوں میں سے کسی ایک میں بھی اپنا فیصلہ تبدیل نہیں کرنا پڑا،کامیابی کا سو فیصدی ریکارڈ تو ایان گولڈ اور بلی باؤڈن کا بھی رہا لیکن علیم ڈار کے آٹھ فیصلوں کے برعکس ان کے چھ اور پانچ فیصلوں کو ریویو کیا گیا،، سری لنکن امپائر اسوکا ڈی سلوا کے چار میچوں میں آٹھ فیصلے نظر ثانی کیلئے گئے اور پانچ مرتبہ انہوں نے ناکامی کا منہ دیکھا۔ ٹیکنالوجی کوسب سے زیادہ مصروف سری لنکا کے امپائر کمار دھرما سینا نے رکھاجن کے16فیصلے نظر ثانی کیلئے گئے۔دو مرتبہ فیصلہ ان کے برعکس آیا تو14مرتبہ ان کی آنکھ نے درست فیصلہ دیا۔