29 مئی 2011
وقت اشاعت: 5:59
ہماری کوششوں سے137لاپتہ افرادبازیاب ہوچکے، سپریم کورٹ
جنگ نیوز -
اسلام آباد…سپریم کورٹ نے کہاہے کہ ان کی کوششوں سے اب تک 137لاپتہ افراد بازیاب ہوچکے ہیں تاہم بلوچستان میں لاپتہ افردا کی تعداد میں اضافہ اور اب گولیوں سے چھنی لاشیں ملنا تشویش ناک ہے، لاپتہ افرادکے کیس کی سماعت کے دوران ایم کیوایم نے نوے کی دہائی میں اپنے لاپتہ افرادکامعاملہ بھی اٹھایا، جس پرعدالت نے پولیس حکام کورپورٹ پیش کرنے کی ہدایت کی ہے۔ جسٹس جاویداقبال کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے تین رکنی بنچ نے لاپتا افراد کے مقدمہ کی سماعت کی ، جسٹس جاویداقبال نے ریمارکس میں کہاکہ لاپتہ افراداوردہشت گردوں میں فرق کرناہوگا، ایجنسیاں ملکی بقا کے لئے کام کررہی ہیں، تاہم ان میں سے کچھ کی نشاندہی کرنا ضروری ہے،جسٹس جاویداقبال نے کہا کہ کوئٹہ میں تو صرف ایف سی کے مورچے ہی بڑھے ہیں۔ جسٹس راجا فیاض نے ریمارکس دئے کہ صوبائی حکومت بتائے کہ یہ لاشیں کون پھینکتا ہے اور اس سلسلے میں اب تک کیاقانونی پیش رفت ہوئی ہے،انہوں نے محاورہ دہرایا کہ روم جل رہا ہے اور نیرو بنسری بجارہا ہے۔ بلوچستان کے ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل اعظم خٹک نے عدالت کو بتایا کہ47میں سے 8لاپتہ افراد بازیاب 8ہوئے ہیں، جن میں شاہ نواز، نقیب اللہ اور میرشہراب شامل ہیں ۔ ایم کیوایم کے نمائندوں نے عدالت نے بتایا کہ نوے کی دہائی میں ان کے 28 افراد لاپتا ہوئے۔ جسٹس جاویداقبال نے کہا کہ لاپتا افراد کا کمیشن کراچی بھی جائے گا ، جہاں اس کے سامنے یہ معاملہ لایا جائے۔