تازہ ترین سرخیاں
 تازہ ترین خبریں 
5 ستمبر 2011
وقت اشاعت: 8:48

کراچی بد امنی کیس:ہمارا کام آئین کا نفاذ ہے، چیف جسٹس

جنگ نیوز -


کراچی…سپریم کورٹ کراچی رجسٹری میں کراچی بدامنی ازخودنوٹس کیس کی سماعت کے دوران عوامی نیشنل پارٹی کے وکیل افتخار گیلانی نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ ثابت کردوں گا کہ موجودہ ٹارگٹ کلنگ کی بنیاد لسانی نہیں ہے۔ از خود نوٹس کیس کی سماعت پانچ رکنی بینچ چیف جسٹس افتخاار چوہدری کی سربراہی میں کررہا ہے۔سماعت کے دوران اے این پی کے وکیل افتخار حسین گیلانی نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ آئین کے تحت اردو قومی زبان ہے کراچی میں حالیہ ٹارگٹ کلنگ کی بنیاد لسانی نہیں یہ گینگ وار بھی نہیں ، گینگ حریفوں کو مارتے ہیں معصوموں کو نہیں۔ افتخار گیلانی نے کہا کہ بارہ مئی کے واقعات کو بھلایا نہیں جاسکتا۔ میں اسلام آباد میں تھا اور مجھے پتا تھا ان واقعات کا ذمہ دار کون ہے۔اپنے دلائل میں انہوں نے کہا کہ میں حکومت میں ہوتا تو ان فسادات کے لئے لسانی یا فرقہ ورانہ کی اصطلاحیں استعمال نہیں کرتا۔ افتخار گیلانی نے کہا کہ ذوالفقار مرزا کے بیانات کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا چیف جسٹس نے اپنے ریمارکس میں کہا کہ اگر کسی اخباری رپورٹ کی تردید نہ کی جائے تو ولی خان کیس کے مطابق اس رپورٹ کے مندرجات صحیح ہوتے ہیں۔ سندھ حکومت کے وکیل عبدالحفیظ پیرزادہ نیکہا کہ محسوس ہوتا ہے عدالتی کارروائی کی نوعیت بدل رہی ہے ، یہ از خود نوٹس ہے لیکن نام لیکر ذمہ داری ڈالی جارہی ہے ، اس صوبے کو لوٹا گیا ہے مین نے اپنے دلائل موضوع تک محدود رکھے ہیں ہمیں شتر مرغ کی طرح اپنی گردن ریت میں نہیں چھپانی چاہئے۔افتخار گیلانی نے کہا کہ اب وقت آگیا ہے کہ وجوہات کا تعین کرکے علاج ڈھونڈاجائے ، جسٹس غلام ربانی نے اپنے دلائل میں کہا کہ ک اگر پاکستان محفوظ ہے تو ہم بھی محفوظ ہیں ،ورنہ ہم بھی باقی نہیں ، افتخارگیلانی نے کہا کہ کراچی میں فوج کی طلبی آرٹیکل 245 کے بجائے 147 کے تحت ہوسکتی ہے ،تاکہ اختیارات صوبائی حکومت کے پاس رہیں۔جس پر چیف جسٹس نے سوال کیا کہ جب آپ کی پولیس رینجرز اور دیگر ایجنسیوں کے پاس اہلیت ہے تو کیا ان سے کام نہیں لیا جاتا ،افتخار گیلانی نے کہا کہ حکومت کے پاس اہلیت ہے لیکن ارادہ نہیں ، چیف جسٹس نے کہا کہ ڈبے سے لاش ملی ایک کو زندہ جلادیا گیا ، بوری سے ایک اور شخص زندہ ملا ہے ، پولیس نے کچھ نہیں کیا ، افتخار گیلانی نے کہا کہ میری تجویز ہے اس کیس کا فیصلہ کرنے بجائے التواء میں رکھا جائے اور مانیٹر کیا جائے حکومت کیا کررہی ہے ،اس پر چیف جسٹس نے کہا کہ اس سے قبل عبدالحفیظ پیرزادہ حکومت کو ویک اپ کال دینے کی تجویز دے چکے ہیں۔اور ہمارا کام آئین کا نفاذ ہے۔ دیکھیں گے آئی جی صاحب نے کیا نتائج دیئے ہیں۔افتخار گیلانی کے دلائل مکمل ہونے کے بعد سندھ بچاوٴ کمیٹی کے وکیل مجیب پیرزادہ کے دلائل جاری ہیں ۔

متن لکھیں اور تلاش کریں
© sweb 2012 - All rights reserved.