5 ستمبر 2011
وقت اشاعت: 20:16
رحمان ملک بلوچستان میں امن کیلئے ڈنڈے کی بات کرتے ہیں، لشکری رئیسانی
جنگ نیوز -
کوئٹہ . . . . . ڈاکٹر ذوالفقار مرزا کے بعد بلوچستان سے پاکستان پیپلز پارٹی کے سابق صوبائی صدر اور سینیٹر حاجی لشکری رئیسانی رحمان ملک پر برس پڑے ان کا کہنا ہے کہ رحمان ملک بلوچستان میں امن کے لئے ڈنڈے جبکہ کراچی میں مصالحت کی بات کرتے ہیں۔ بلوچستان میں امن قائم کرنے میں ان کا کردار مشکوک نظر آتا ہے۔ کوئٹہ میں میر حقمل رئیسانی کے چہلم کے موقع پر ساراوان ہاوس میں نیوز کانفرنس کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ذوالفقار مرزا نے قرآن پر ہاتھ رکھ کر جو انکشافات کئے ہیں وہ ان کی ذاتی رائے نہیں۔ انہوں نے کہا کہ جن کے بارے میں یہ انکشافات ہو ئے ہیں اگروہ ان الزامات کو غلط ثابت کرنا چاہتے ہیں تو قرآن پاک کو ضامن بنائیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ ریاست اور عدلیہ کی ذمہ داری ہے کہ وہ اس معاملے پر سوموٹو نوٹس لیتے ہوئے تحقیقات کروائے کیونکہ ملک کی کروڑوں عوام ان سوالات کے جوابات سننے کے منتظر ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وہ سیاسی جماعتیں جو پارلیمنٹ کے اندر ہیں یا باہر خاموش ہو نے کے ساتھ ذوالفقار مرزا کے بیانات کو توڑ موڑ کر پیش کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ذوالفقار مرزا کے انکشافات کو سنجیدگی سے لینا ہو نگے کیونکہ انہوں نے صرف ارباب اختیار کی آنکھوں ہی سے نہیں بلکہ عوام کی آنکھوں سے بھی پٹی اتار دی ہے۔ حاجی لشکری نے کہا کہ کراچی میں بدامنی سے ملک کی معیشت کو نقصان پہنچ رہا ہے۔ انہوں نے الزام لگاتے ہوئے کہا کہ کراچی میں ٹارگٹ کلنگ میں ملوث سینکڑوں ملزمان پکڑے گئے مگر ان میں سے صرف چار کو میڈیا کے سامنے لاکر کسی ایک قوم سے جوڑنا رحمان ملک کی سازش ہے جس کی مذمت کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان کا مسئلہ سیاسی ہے اور انتظامی بھی یہاں لوگ حقوق کی بات کرتے ہیں، اس حوالے سے وہ ناراض لوگ جنہیں مزاحمت کار کہا جا تا ہے، ان کا مجھ سے بھی رابطہ ہو اہے وہ پر اُمن طور پر قومی دھارے میں شامل ہو نا چاہتے ہیں مگر جب بھی ان سے بات کرنے کی کوشش کی جاتی ہے وفاقی وزیر داخلہ کی جانب سے مداخلت کے بعد معاملات ٹھنڈے پڑ جاتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر اسی طرح وعدہ خلافی ہوئی تو مجبوراً وہ بھی پہاڑوں پر چلے جائیں گے مگر مجھے جمہوری حکومت پر یقین ہے کہ وہ بلوچستان میں امن قائم کرنے کے لئے ناراض بھائیوں سے بات چیت کر کے انھیں ان کے حقوق دے گی۔