6 ستمبر 2011
وقت اشاعت: 7:33
سندھ کے کئی اضلاع میں بارش سے تباہی، متاثرین امداد کے منتظر
جنگ نیوز -
کراچی…سندھ کے مختلف علاقوں میں گزشتہ کئی روز سے جاری بارشوں سے سیم نالوں اور نہروں کے پشتوں کو شدید نقصان پہنچاہے۔زیر آب آنے والے ہزاروں دیہات میں ہر جگہ پانی نظر آتا ہے۔خیرپور شہر اور ملحقہ علاقوں میں موسلادھار بارش کا سلسلہ ایک بار پھر شروع ہوگیا۔ڈی سی او خیر پور محمد عباس بلوچ کے مطابق ضلع خیرپور میں بارشوں اور سیلابی ریلوں کے باعث چھ ہزار دیہات اور دس لاکھ ایکڑ زرعی اراضی زیر آب آچکی ہے۔فیض گنج،نارا اور کوٹ ڈی جی سمیت کچے کیتمام علاقوں میں کئی فٹ پانی کھڑا ہے جبکہ شہری علاقوں میں بھی گھٹنوں پانی جمع ہے۔جس کے باعث وبائی امراض پھیلنے لگے ہیں۔عمرکوٹ کی تحصیل سامارو میں تین سے پانچ فٹ پانی جمع ہے۔شہر کے اطراف اور ملحقہ دیہات میں چھ سے آٹھ فٹ پانی کھڑا ہے جہاں سے کئی خاندان نقل مکانی کرکے محفوظ مقامات کی جانب منتقل ہوچکے ہیں جبکہ ہزاروں افراد بے یارومددگار امداد کے منتظر ہیں۔ نوکوٹ کے قریب سیم نالے کی سطح خطرناک حد تک پہنچنے اور اس پر قائم پل کو نقصان پہنچنے کے بعد ٹریفک کے لئے بند کردیا گیاہے۔سڑکوں کے کنارے پناہ لئے ہوئے متاثرین میں پیٹ کے امراض ملیریااور سانپ کاٹنے کے واقعات میں بھی مسلسل اضافہ ہورہا ہے۔ میر پور خاص شہر کے نشیبی علاقوں میں بھی پانی جمع ہے۔ریلوے سب وے برج آٹھ فٹ پانی میں ڈوبا ہوا ہے۔جس سے برج کی دیواروں کو شدید نقصان پہنچ رہا ہے۔شہر کے مختلف علاقوں میں تار گرنے کے باعث گزشتہ رات سے شہر کے مختلف علاقوں کو بجلی فراہی معطل ہے۔ دادو مورو پل کے مقام پر دریائے سندھ کی سطح میں بھی اضافہ ہورہا ہے جس کے باعث 8 دیہات زیر آب آگئے۔ اوباڑو کے شہر کھمبڑا میں پانی کے نکاس کے لئے اوباڑو کشمور روڈ پر کٹ لگادیا گیا ہے جس سے گھوٹکی فیڈر میں پانی کا اخراج جاری ہے۔