12 ستمبر 2011
وقت اشاعت: 19:29
اندرون سندھ موسلادھار بارش، حادثات میں11افراد جاں بحق
جنگ نیوز -
کراچی …سندھ کے مختلف علاقوں میں صبح سے شروع ہونیوالی طوفانی بارش کا سلسلہ تاحال وقفے وقفے سے جاری ہے،آج کی بارش نے جہاں متاثرین کی مشکلات میں اضافہ کردیا وہیں مختلف اضلاع میں مزید کئی دیہات بھی زیر آب آگئے، بارش کے دوران مختلف واقعات میں آج مزید 11 افراد جاں بحق ہوئے۔ حیدرآباد میں بارش کے دوران شہر کے تمام نشیبی علاقے ایک بار پھر پانی کی لپیٹ میں آگئے اور سڑکیں ندی نالوں کے منظر پیش کرنے لگے،جامشورو، کوٹری، ٹنڈولہ یار، ٹنڈومحمد خان اور مٹیاری سمیت دیگر علاقوں میں بھی بارش کے بعد معمولات زندگی ایک بار پھر مفلوج ہوکر رہ گئے۔حیدرآبادمیں شام ساڑھے4بجے سے موسلادھاربارش کاسلسلہ جاری ہے۔محکمہ موسمیات کے مطابق 60 ملی میٹربارش ریکارڈکی گئی۔لطیف آبادنمبر2، 12اورایوب کالونی میں گھروں میں پانی داخل ہوچکا ہے جبکہ شہرکے بیشترعلاقوں میں گھٹنوں گھٹنوں پانی جمع ہوگیا۔حیدرآباد کے ضلعی ایڈمنسٹریٹر کے مطابق شہر سے برساتی پانی نکالنے کا کام شرو ع کیا جا چکا ہے،انہوں نے اعلان کیا ہے کل سرکاری و غیر سرکاری اسکول بند رہیں گے۔ نوابشاہ،بدین اورسانگھڑمیں بارشوں اورسیلاب سیصورتحال انتہائی خراب ہوگئی۔متاثرین کیمپوں میں پریشان،کوئی پوچھنے والا نہیں جبکہ ضلعی انتظامیہ امدادی کاموں کے بجائے وی آئی پی موومنٹ میں مصروف ہیں جبکہ بدین اورنوابشاہ میں لاکھوں متاثرین کیمپوں میں پریشان ہیں۔ انہوں نے شکوہ کیا ہے کہ ضلعی انتظامیہ اورسیاستدان فوٹوسیشن کرارہے ہیں ۔بھٹ شاہ اورہالامیں چھتیں اوردیواریں گرنے سے2بچوں سمیت3 افراد جاں بحق ہوگئے جبکہ کوٹری میں بھی مکانوں کی چھتیں اوردیواریں گرنے سے9افرادزخمی ہوگئے۔بدین میں طوفانی بارش کے باعث ایل بی او ڈی سیم نالے میں پانی کا بہاوٴ 40 ہزار کیوسک سے بھی تجاوز کرنے کے بعد سیم نالے میں کئی مقامات پر شدید طغیانی آگئی ہے۔پاک فوج کے جوانوں نے ملکانی شریف، خیرپورگمبوہ، پنگریو اور شادی لاج سمیت دیگر متاثرہ علاقوں سے تین ہزار سے زاید لوگوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا تاہم بھوک اور پیاس سے نڈھال ہزاروں افراد تا حال پانی میں پھنسے ہوئے ہیں۔ٹھٹھہ میں شدید بارش کے دوران شہر کے نشیبی علاقوں سمیت قومی شاہراہ کا بڑا حصہ بھی زیر آب آگیا،جبکہ تیز بارش کے باعث قومی شاہراہ میں کئی مقامات پر گڑھے پڑ گئے ہیں۔بارش کے دوران شہر کی کچی آبادیوں میں گھروں کے اندر پانی داخل ہوجانے کے بعد متاثرین نے انتظامیہ کے خلاف احتجاج بھی کیا،سانگھڑ اور اس کے مضافات میں تیز بارش کی وجہ سے شہر کے تمام علاقے زیر آب آگئے ہیں اور نوابشاہ روڈ زیر آب آجانے کے بعد سانگھڑ شہر کا دیگر علاقوں سے زمینی رابطہ بھی منقطع ہوگیا ہے۔شہدادپور، کھپرو، جھول اور ٹنڈوآدم سمیت دیگر علاقوں میں بھی بارش وقفے وقفے سے جاری ہے جس کے باعث شہروں میں کئی کئی فٹ پانی جمع ہوگیا ہے۔میرپورخاص میں شدید بارش کی وجہ سے شہر سے ملحقہ سیم نالوں کے اطراف بند باندھنے کا کام بھی روک دیا گیا ہے۔سامارو، کنری، پتھورو، نبی سر اور ٹالی سمیت عمرکوٹ کے دیگر علاقوں میں بھی موسلا دھار بارش جاری ہے، مختلف علاقوں میں ہزاروں افراد پانی میں پھنسے ہوئے ہیں جبکہ حکام کی جانب سے اعلان کے باوجود انہیں کشتیاں فراہم نہیں کی گئیں۔