تازہ ترین سرخیاں
 تازہ ترین خبریں 
13 ستمبر 2011
وقت اشاعت: 13:46

حکومت تحریری بیان دے کہ مسلح گروہوں کا ساتھ نہیں دیگی، سپریم کورٹ

جنگ نیوز -


کراچی…سپریم کورٹ کے چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری نے کہا ہے کہ وقت آگیا ہے کہ صحیح کو صحیح اور غلط کو غلط کہا جائے اس لیئے حکومت تحریری بیان دے کہ وہ مسلح گروہوں کا ساتھ نہیں دے گی اور صرف مظلوموں کے ساتھ کھڑی ہوگی۔کراچی میں بدامنی پر از خود نوٹس کیس کی سماعت کے دوران چیف جسٹس پاکستان جسٹس افتخار محمد چوہدری نے کہا کہ سرکاری ملازمین کو جو نوکری اور عزت ملی ہے وہ پاکستان کی وجہ سے ہے لیکن سمجھ نہیں آتی کہ ہم پاکستان سے محبت کیوں نہیں کرتے۔ آج اٹارنی جنرل مولوی انوار الحق، بیرسٹر ظفر اللہ اور ایڈوکیٹ جنرل سندھ عبدالفتح ملک نے اپنی معروضات مکمل کرلیں جبکہ بابر اعوان کے دلائل جاری تھے کہ سماعت بدھ کی صبح تک ملتوی کردی۔اٹارنی جنرل مولوی انوارالحق نے اپنے دلائل میں کہا کہ عدالت کو اس سوال کا جواب تلاش کرنا ہے کہ کراچی میں آئین کی خلاف ورزی سیاسی جماعتوں کی طرف سے ہوئی یا ریاست کی طرف سے اور یہ کہ ایسی صورتحال سے کس طرح نمٹا جاسکتا ہے۔اس موقع پر بنچ کے رکن جسٹس سرمد جلال عثمانی کے استفسار پر اٹارنی جنرل نے بتایا کہ سپریم کورٹ کے نوٹس لینے کے بعد صورتحال بہتر ہوئی ہے اور اب فوج بلانے کی ضرورت نہیں۔ اس موقع پر جسٹس انور ظہیر جمالی نے ریمارکس دیئے کہ اگر حکومت بروقت اور مناسب اقدامات کرے تو امن وامان بگڑنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ انہوں نے کہاکہ کٹی پہاڑی پر چار روزتک خون ریزی ہوتی رہی لیکن حکومت تماشائی بنی رہی۔ ایڈوکیٹ جنرل سندھ فتح ملک نے کہا کہ کراچی کی تاریخ ایسی بن گئی ہے کہ سویلین حکومت کے دور میں بدامنی ہوتی ہے اور فوجی حکومت میں امن وامان ہوجاتا ہے۔ایڈووکیٹ جنرل سندھ نے کہا نواز شریف اور بے نظیرکے دور میں ہزاروں لوگ اپنی جانوں سے گئے لیکن جیسے ہی پرویز مشرف کی حکومت آئی سب ٹھیک ہوگیا۔ عوامی تحریک کے رہنما، رسول بخش پلیجو نے فاضل بنچ کو بتایا کہ گزشتہ 20 سال سے زائد عرصے میں کسی جرم کرنے والے کو سزا نہیں ملی اور اگر یہ سلسلہ جاری رہا تو کوئی بہتری نہیں آئے گی۔انہوں نے کہا کہ عدالت کو کہیں ایسی کوئی مثال نہیں ملے گی کہ صدر کچھ لوگوں کویقین دہانی کرائیں کہ ان کے خلاف ایکشن نہیں ہوگا کیونکہ وہ حکومت کا حصہ بننے والے ہیں۔ وفا ق کے وکیل ڈاکٹر بابر اعوان نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ صوبائی حکومت کی ایگزیکٹیو اتھارٹی صوبے کے 23 اضلاع پرمحیط ہے اور ان میں سے صرف ایک ضلع کے حالات کو از خود نوٹس کی بنیاد بنایا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایگزیکیٹو اتھارٹی مرکزکی سطح پر ناکام ہوئی ہے اور نہ صوبے کی سطح پر ، کراچی کے حالات داخلی بدامنی کے زمرے میں آتے ہیں۔بابر اعوان کے دلائل جاری تھے کہ فاضل بنچ نے سماعت بدھ کی صبح تک کے لئے ملتوی ہوگئی۔

متن لکھیں اور تلاش کریں
© sweb 2012 - All rights reserved.