تازہ ترین سرخیاں
 تازہ ترین خبریں 
13 ستمبر 2011
وقت اشاعت: 18:18

زلزلے کے بعد مشرف نے منقسم کشمیر یوں کو ملاقات کرانیکی پیشکش کی تھی

جنگ نیوز -


اسلام آباد…وکی لیکس کے مطابق 2005 میں آنیوالے زلزلے کے بعد صدر پرویز مشرف نے کشمیر اور پاکستان میں موجود منقسم خاندانوں کوایک دوسرے سے ملاقات کی پیشکش کی اس کوشش کا مقصد اپنے حق میں رائے عامہ بہتر بنانا تھی لیکن اس فیصلے کی خبر وزارت خارجہ اورمشرف کے بھارتی ہم منصب کو نہیں تھی۔ سابق صدر پرویز مشرف نے زلزلے کے بعد اٹھارہ اکتوبر کو پریس کانفرنس کے دوران اعلان کیاتھا کہ حکومت پاکستان، مقبوضہ کشمیر کے عوام اور سیاستدانوں کو آزاد کشمیر آنے کی اجازت دیگی تاکہ وہ نہ صرف یہاں موجود اپنے رشتہ داروں سے ملاقات کرسکیں بلکہ زلزلے سے متاثرہ علاقوں میں بحالی کے کاموں میں مدد بھی کراسکیں۔ انہوں نے سرحد کے دونوں جانب لینڈ لائن اور موبائل کمیونی کیشن لنکس بحال کرنے کی تجویز بھی دی تھی۔وکی لیکس کے جاری کئے گئے مراسلے کے مطابق اس وقت پاکستان میں موجود امریکی سفیرریان سی کروکر نے بیس اکتوبر دو ہزار پانچ کوخفیہ دستاویز واشنگٹن بھیجی اور لکھا کہ سرحد پار سے کشمیریوں کی آزادانہ نقل و حرکت کے اس فیصلے کے بارے میں نہ تو پاکستان کی وزارت خارجہ سے کسی قسم کی بات کی گئی تھی نہ ہی پرویز مشرف کے بھارتی ہم منصب اس سے آگاہ تھے۔تاہم س پردونوں جانب سے مثبت عوامی ردعمل سامنے آیا اور بھارتی حکومت نے بھی خیر مقدم کیاتھا۔کروکر کے مطابق مشرف کی یہ پیش کش کشمیری عوام کی اپنے حق میں رائے ہموار کرنے کی بروقت کوشش تھی۔


متن لکھیں اور تلاش کریں
© sweb 2012 - All rights reserved.