14 ستمبر 2011
وقت اشاعت: 14:22
حکومت کی ناکامی یہ ہے کہ شہریوں کو تحفظ فراہم نہیں کیا جاتا، سپریم کورٹ
جنگ نیوز -
کراچی…سپریم کورٹ میں کراچی بدامنی کیس کی سماعت کے دوران وفاق کے وکیل بابراعوان نے آئین کے تحت سیاسی قیادت کے پرعزم ہونے کی امید ظاہر کی،جس پرچیف جسٹس افتخارمحمد چوہدری نے ریمارکس دیئے کہ” اْمید پر بیوہ کرتے جاوٴ اور بچوں کو یتیم کرتے جاوٴ“ حکومت کی ناکامی یہ ہے کہ شہریوں کو تحفظ فراہم نہیں کیا جاتا۔ چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کی سربراہی میں لارجر بینچ نے کراچی بدامنی کیس کی سماعت کے دوران ریمارکس دیئے کہ سیاسی اخلاقیات معدوم ہوچکی ہیں اورایک سیاسی پارٹی ایسی بھی ہے جو دستور کے آرٹیکل17کی خلاف ورزی کی مرتکب ہوئی ہے ،یہی وجہ ہے کہ عدالت موجودہ صورتحال کا سامنا کررہی ہے۔چیف جسٹس نے کہاکہ کراچی میں تمام کیسز دہشت گردی کے ہوتے ہیں یہاں تک کہ بھتہ بھی دہشت گردی کی تعریف میں آتا ہے۔تاہم ایک آدمی سوافراد کومارتا ہے، جے آئی ٹی اس کے خلاف رپورٹ دیتی ہے لیکن اس کے خلاف گواہ نہیں ملتے۔سماعت کے دوران سندھ ہائی کورٹ بارایسوسی ایشن کے صدرانور منصورخان نے دلائل مکمل کرلیئے جبکہ وفاقی حکومت کے وکیل بابر اعوان کل بھی اپنے دلائل جاری رکھیں گے۔بابر اعوان نے دلائل میں کہا کہ1994-96 میں جنرل نصیراللہ بابر کی جانب سے کیا جانے والا آپریشن کراچی مسئلہ کا بہترین حل تھا لیکن اُسی کابہانہ بنا کر حکومت ہٹا دی گئی۔چیف جسٹس نے کہاکہ اِس وقت حکومت پر آئینی ذمہ داریاں پوری نہ کرنے کا الزام ہے۔رواں سال اب تک1310 افراد مارے جاچکے ہیں، لاشیں مل رہی ہیں، عدالت نے کچھ تو کرنا ہے۔چیف جسٹس نے کہا کہ جب عدالتیں کام کررہی ہوں گی توحکومت کوبھی تقویت ملے گی۔چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ جولائی سے اگست تک 306 افراد قتل ہوئے ایک ملزم بھی گرفتارنہیں کیا گیا اور نہ ہی چالان پیش کیاگیا۔پولیس تھانوں میں چھپ جاتی ہے۔بینچ نے بابر اعوان سے پوچھاکہ ممنوعہ بور کے لائسنزدیئے جارہے ہیں۔ ایل ایم جی، راکٹ لانچر،گرنیڈ کہاں سے آرہے ہیں،آئی جی نے تو یہاں تک کہاکہ یہاں اینٹی ائیرکرافٹ گنز بھی موجود ہیں۔جس کے جواب نے بابراعوان نے کہاکہ وہ یہ چیک کرکے بتائیں گے۔اس موقع پرآئی جی سندھ نے عدالت کو بتایا2001سے اب تک غیر ممنوعہ بوری کے پانچ لاکھ لائسنز جاری کیئے ہیں۔محکمہ داخلہ لائسنزجاری کرتاہے لیکن تھانے میں اندراج نہیں کرایا جاتا۔ایک موقع پراجمل پہاڑی کاتذکرہ آیاتوبنچ نے ریمارکس دیئے کہ اس نے تسلیم کیاہے کہ بھارت میں تربیت لی،حکومت نے کیاکیا؟بابراعوان نے کہاکہ اجمل پہاڑی اقبال رعدقتل کیس میں پکڑاگیالیکن عدالت نے بری کردیا۔بابراعوان کل بھی اپنے دلائل جاری رکھیں گے۔