5 مارچ 2011
وقت اشاعت: 20:41
خاتون پر تشدد کیس: پولیس مارد پدر آزاد ہوگئی ہے، سپریم کورٹ
جنگ نیوز -
اسلام آباد…سپریم کورٹ نے فیصل آباد میں پولیس کی طرف سے ایک خاتون پر تشدد کے ازخود نوٹس کی سماعت میں آئی جی پنجاب پولیس پر شدید برہمی کا اظہار کیا ہے، ججوں نے ریمارکس میں کہا ہے کہ اس واقعہ سے دنیا میں ملک کی بدنامی ہوئی?چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کی سربراہی میں سپریم کورٹ نے تین رکنی بنچ نے ازخود نوٹس کیس کی سماعت کی ? اس موقع پرکمرہ عدالت میں آئی جی پنجاب پولیس ، طارق سلیم اور سی پی او فیصل آباد راؤ سردار بھی موجود تھے?چیف جسٹس نے خاتون پر تشدد کے ذمہ دار پولیس اہلکاروں کے خلاف سخت محکمانہ کارروائی نہ ہونے پر آئی جی پنجاب پولیس پر اظہار برہمی کیا? انہوں نے ریمارکس میں کہا کہ ٹی وی چینلز پر132 ممالک نے دیکھا کہ اب پاکستان میں خواتین پر بھی پولیس تشدد کرتی ہے اور لوگ سمجھتے ہیں کہ شاید ملک میں عدالتیں ختم ہوگئی ہیں ، جسٹس خلیل الرحمن رمدے نے ریمارکس میں کہا کہ فیلڈ میں مجسٹریٹ رہنے نہیں دیئے گئے اور پولیس مادر پدر آزاد ہوگئی ہے ، عدالت میں موجود سی پی او فیصل آباد نے کہا کہ خاتون پر تشدد نہیں ہوا، اسے صرف دھکا لگا تھا ، اس پر کمرہ عدالت میں فیصل آباد واقعہ کی ٹی وی فوٹیج چلادی گئی اور عدالت نے غلط بیانی کرنے پر سی پی او فیصل آباد راؤ سردار پر سخت برہمی کی ، جسٹس رمدے نے کہا کہ جھوٹ بول کر عدالت کو گمرہ کرنے پر ہم تمہیں جیل میں بھیج دیں گے ? چیف جسٹس نے آئی جی پنجاب سے مخاطب ہوتے ہوئے کہا کہ راؤ سردار ، پولیس سروس کے قابل نہیں ، بعد میں عدالت نے متاثرہ خاتون کی آمد تک مقدمہ کی سماعت کچھ دیر کیلئے ملتوی کردی?