5 مارچ 2011
وقت اشاعت: 20:44
پاکستان کیلئے چینی ری ایکٹرسے جنگ کا امکان بڑھ سکتا ہے، رپورٹ
جنگ نیوز -
ٹوکیو…فارن ڈیسک…جاپانی جریدے ’دی ڈپلو میٹ‘ نے خدشات کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ چین کا پاکستان کو جوہری ریکٹر کی فروخت برصغیر میں جنگی امکانات میں اضافہ کر سکتاہے۔پاکستان کے صدر نے اپنا چین کا دورہ مکمل کر لیا ہے جس میں چین نے دو جوہری ریکٹر پاکستان کو دینے کے معاہدے کی بات کی۔ زرداری کا یہ اپنا عہد صدرات سنبھالنے کے بعد پانچوں دورہ ہے۔ گزشتہ دوروں کی نسبت یہ دورہ زیادہ اہمیت کا حامل رہا۔ چین پہلے ہی پاکستان میں 325میگاواٹ کا ایکجوہری ریکٹر چشمہ کے مقام پر بنا رہا ہے۔ جب کہ دوسرا ایٹمی ریکٹر2011یا2012میں مکمل ہو جائے گا۔چینی نیو کلئیر ماہرین نے دعویٰ کیا ہے کہ چین کی 2004میں نیو کلئیر سپلائی گروپ میں شمولیت سے قبل پاکستان کو دو ایٹمی ریکٹر دینے کا معاہدہ ہوچکا تھا۔لہذا پاکستان پر NSGکی شرائط لاگو نہیں ہوتی کیو نکہ پاکستان نے این پی ٹی پر دستخط نہیں کیے۔امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان فلپ نے گزشتہ ماہ گفتگو کرتے ہوئے کہا تھا کہ امریکا ممکنہ طور پر چینی منصوبہ بندی سے پریشان ہے۔امریکی خدشات پر چینی وزارت خارجہ کے ترجمان کن گینگ نے کہا کہ چین اور پاکستان کے درمیان سویلین جوہری توانائی کا تعاون ایٹمی عدم پھیلاوٴ کے بین الاقوامی دائرے کے مطابق ہے۔