5 مارچ 2011
وقت اشاعت: 20:44
لوگوں کی اکثریت آج بھی چاند کی تسخیر پر یقین نہیں رکھتی،رپورٹ
جنگ نیوز -
آسٹن…جنگ نیوز…چاند کی سطح پر پہلے انسان کے قدم رکھنے کی تقریباً چار دہائیوں کے بعد آج بھی دنیا میں ایسے لوگوں کی بڑی تعداد موجود ہے جو سرے سے اس واقعہ پر یقین نہیں رکھتی۔ امریکی صدر رچرڈ نکسن نے 1960 میں دعویٰ کیا تھا کہ وہ عنقریب چاند پر انسان کو اتارنے میں کامیاب ہو جائیں گے۔ اس دعوے کو عملی شکل دینے کیلئے آج سے تقریبا چالیس سال قبل 16 جولائی 1969ء کو امریکہ نے اپالو 11 نامی پہلا انسان بردار خلائی مشن چاند کی طرف روانہ کیا جس میں سوار خلا باز نے 20 جولائی کو چاند کی سطح پر قدم رکھنے والا پہلا انسان ہونے کا دعویٰ کیا اور چاند کی سطح پر امریکی پرچم نصب کیا۔ تاہم اس واقعہ سے اب تک ایسے لوگوں کی بڑی تعداد موجود رہی ہے جنہوں نے اس پر یقین کرنے سے انکار کیا ہے۔ یہ لوگ اپنے موقف کے حق میں دلائل دیتے ہوئے کہتے ہیں کہ امریکی خلا باز کے چاند کی سطح پر اترنے کے بعد وہاں امریکی پرچم نصب کرنے کی وڈیو میں امریکی پرچم لہراتا ہوا نظر آ رہا ہے جو صرف ہوا کی موجودگی میں ہی ممکن ہے حالانکہ چاند کی سطح پر کوئی ہوا نہیں۔ اس موقف کے حق میں دوسری دلیل یہ دی جاتی ہے کہ چاند پر انسان کو اتارنے کے تمام 6 خلائی مشنز امریکی صدر رچرڈ نکسن کے دور اقتدار کے دوران ہی روانہ کئے گئے اور ان کے دور کے بعد سے اب تک خلائی تسخیر کی ٹیکنالوجی میں بے پناہ ترقی کے باوجود ابھی تک کوئی انسان چاند پر نہیں اترا۔ ایک دلیل یہ بھی دی جاتی رہی ہے کہ امریکی خلا بازوں کے چاند پر اترنے کی تصاویر کے پس منظر میں نظر آنے والے آسمان پر ستارے دکھائی نہیں دے رہے جو ممکن نہیں۔ اس طرح ان تصاویر میں چاند کی سطح پر اترنے والے امریکی خلا بازوں کے پاؤں کے نشانات تو نظر آ رہے ہیں لیکن 17 ٹن وزنی خلائی گاڑی کی لینڈنگ کے نشانات نظر نہیں آ رہے۔ اسی طرح خلا بازوں کے پاؤں کے نشانات سے اندازہ ہوتا ہے کہ وہ کیچڑ میں کھڑے ہیں حالانکہ چاند پر کیچڑ کی موجودگی کا کوئی امکان نہیں خاص طور سے چاند کی سطح گرد آلود ہونے اور اس کی کشش ثقل زمین سے کم ہونے کی وجہ سے خلا بازوں کے پاؤں کے ایسے نشانات بننا ممکن نہیں۔ اس کے علاوہ خلائی گاڑی کے چاند سے پرواز کرنے کے موقع پر اس کے راکٹ کے عقبی حصے سے آگ نکلتی نظر نہیں آئی۔ ماہرین کا یہ بھی کہنا ہے کہ چاند پر اترنے اور وہاں سے واپسی کیلئے امریکی خلا باروں کو وان ایلن بیلٹ سے گزرنا پڑتا جس کی تابکار شعاعوں کے زیر اثر ان کا زندہ بچ جانا ممکن نہیں تھا۔