تازہ ترین سرخیاں
 تازہ ترین خبریں 
5 مارچ 2011
وقت اشاعت: 20:44

بھارت مذاکرات کیلئے ذہنی طور پر تیار نہیں تھا ،وزیرخارجہ

جنگ نیوز -
اسلام آباد…وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ بھارت مذاکرات کے لئے ذہنی طور پر تیار نہیں تھا ۔ ایس ایم کرشنا صرف اپنی بات کہنے آئے تھے ۔ نجانے ایک رات میں کیا ہوگیا کہ ماحول بدل گیا۔اسلام اباد میں نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ ہمارا جو موقف تھا اس کی وجہ تائید بھی کرتے ہیں ، جو کچھ چار سال میں حاصل کیا گیا اس کو رائیگاں نہیں جانا چاہئے ، ہمیں اس پر آگے کی تعمیر کرنی چاہئے ۔ ہم چاہتے ہیں کہ معاملات وہاں سے شروع کئے جائیں جہاں بات پہنچ چکی تھی ۔ کچھ معاملات میں ہم چاہیں کہ طریقہ کار طے کیا جائے تو پاکستان کو آگے بڑھنے کیلئے اس میں کچھ دشواریاں ہوں گی ، پاکستان مذاکرات کیلئے تیار ہے ۔ ہمیں وسعت قلبی سے آگے بڑھنا ہوگی ، تنگ دلی ہو تو بات آگے نہیں بڑھ سکتی ۔ ہاں اگر آپ کہیں کہ سرکریک پر نشست کی جاسکتی ہے سیاچن پر نہیں تو بات بنتی نہیں ۔اگر یہ کہا جائے کہ فرینڈلی تبادلوں پر ، تجارت کے معاملات پر تو ہمارے کلچرل سیکرٹریز اور کامرس سیکرٹریز مل بیٹھیں تو آیئے طے کرلیتے ہیں لیکن جموں و کشمیر ، امن و استحکام سیاچن اور جو بنیادی اشوز ہیں پاکستان کے ان کی نشستوں کا جو تعین ہے اس کو غیرواضح رکھا جائے تو بات میری سمجھ سے بالا ہے ۔ میں سمجھتا ہوں کہ جو ایشوز طے شدہ ہیں مثلاً ہماری ماڈیلیٹریز مختلف ایشوز پر طے شدہ ہیں ان کو ری اوپن کرنے کا مجھے جواب دکھائی نہیں دیتا اور پھر پاکستان کا پہلے دن سے موقف رہا ہے کہ ہم مذاکرات کے لئے تیار ہیں ہم مذاکرات کے خواہشمند ہیں لیکن یہ مذاکرات بامعنی اور نتیجہ خیز ہونے چاہئیں اور مذاکرات کیلئے اگر وہ سمجھتے ہیں کہ ابھی ذہنی طور پر ان کا مینڈیٹ محدود ہے تو ہم انتظار کرسکتے ہیں اور انتظار کرنے کیلئے تیار ہیں اور کبھی بھی کہیں بھی مذاکرات کیلئے تیار ہیں ۔ پاکستان لچک دکھانے کیلئے تیار ہے ۔ ہم نے پہلے بھی کہا تھا مذاکرات جب بھی کیجئے جب برابری کی سطح پر بیٹھتے ہیں تو مذاکرات مشروط نہیں ہوسکتے ۔ مثلاً دہشت گردی کے ایشوز پر وہ پیشرفت چاہتے ہیں تو پاکستان اتنا ہی خواہش مند ہے جتنا کہ بھارت کیونکہ پاکستان خود دہشت گری سے متاثر ہے ۔کشمیر ایک طے شدہ بات ہے کہ ہمارے مذاکرات کا حصہ رہا ہے ۔یہ ایک اسٹریٹجک ٹیریٹری ہے اور اگر یہ تصور کیا جائے کہ پاکستان کے عوام یا کشمیری وہاں کی اندرونی صورتحال سے لاتعلق ہوجائیں تو یہ ممکن نہیں ہے ۔ پورے مقبوضہ کشمیر میں ہڑتالیں ہوں تالا بندی ہوں معصوم شہریوں کی جانیں متاثر ہوئی ہیں تو پاکستان لاتعلق کس طرح رہ سکتا ہے ، یہ سمجھنے اور سوچنے کی بات ہے ۔ ہماری کوشش یہ ہے کہ ہم جو ہماری پیچیدگیاں ہیں وہ سب جانتے ہیں ان پیچیدگیوں کو سمجھتے ہوئے ہم یقینا آگے بڑھنا چاہتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ آگے بڑھنے میں دونوں ملکوں کا مفاد ہے ۔ دونوں وزرائے اعظم کی یہ خواہش ہے جسے ہم آگے بڑھانا چاہتے ہیں ۔ مجھے کرشنا ہمیشہ تعمیری اور مثبت پائیں گے ، لیکن تعمیری اور تعاون کے معنی یہ نہ لئے جائیں کہ میں پاکستان کے مفادات سے نظر چراسکتا ہوں ۔

متن لکھیں اور تلاش کریں
© sweb 2012 - All rights reserved.