تازہ ترین سرخیاں
 تازہ ترین خبریں 
5 مارچ 2011
وقت اشاعت: 20:44

پاک بھارت مذاکرات دیرپا امن کے لیے مفید ثابت ہوں گے، فاروق ستار

جنگ نیوز -
اسلام آباد…متحدہ قومی موومنٹ کے ڈپٹی کنوینرز و وفاقی وزیر ڈاکٹر فاروق ستار کی قیادت میں تین رکنی وفد نے بھارتی وزیر خارجہ ایس ایم کرشنا سے ملاقات کی وفد میں حق پرست وفاقی وزیر بابر غوری اور ایم کیو ایم کے قومی اسمبلی میں ڈپٹی پارلیمانی لیڈر سید حیدر عباس رضوی شامل تھے۔ ملاقات کے بعد ڈاکٹر فاروق ستار نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ ہم نے بھارتی وزیر خارجہ کو قائد تحریک الطاف حسین اور ایم کیو ایم کی جانب سے خوش آمدید کہا اور مذاکرات کے آغاز کا خیر مقدم کیا ۔ مذاکرات کے آغاز کو ہم سمجھتے ہیں کے آنے والے وقتوں میں اس کے مفید اثرات نکلیں گے۔ انہوں نے کہا کہ پاک بھارت مذاکرات پورے جنوبی ایشیاء میں پائیدار اور دیرپا امن کے لیے مفید ثابت ہوں گے ۔ انہوں نے کہا کہ پاک بھارت مذاکرات دونوں ممالک کے تعلقات میں بہتری لانے کیلئے بھی کارآمد ثابت ہوں گے ۔ انہوں نے بتایا کہ یہ دورہ پاکستان بھارت تعلقات کے لیے ایک سنگ میل کی حیثیت رکھتا ہے ۔ انہوں نے پاکستانی وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کو بھارت کے دورے کی بھی دعوت دی ہے جو انہوں نے قبول کرلی ہے ڈاکٹر فاروق ستار نے کہا کہ ہم یہ سمجھتے ہیں کہ ضرورت اس بات کی ہے کہ مذاکرات کو نتیجہ بنانے کے لیے مزید اقدامات کی بھی ضرورت ہے ۔ دونوں ممالک میں مذاکرات کے ذریعے تجارت کو بہتر بنانے کی ضرورت پر بھی بات چیت ہوئی ۔ اس سلسلے میں ویزا پالیسی کو آسان اور بہتر بنانیکی ضرورت پر بھی زور دیا ۔ انہوں نے کہا کہ چیمبر آف کامرس اور عام لوگوں کے لیے بھی ویزے کی سہولت کو بہتر بنانے اور کراچی میں قونصلیٹ قائم کرنے یا فوری طورپر ویزا سیکشن کے قیام پر بھی زور دیا گیا ۔ انہوں نے کہا کہ دہشت گرد اور انتہاء پسند جنوبی ایشیاء میں مختلف طریقوں سے واردات کرتے ہیں اور ان کی پالیسی تقسیم کرو اور حکومت کرو کی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ اب ضرورت اس بات کی ہے جہاں عالمی سطح پر اس خطے میں دہشت گردی کے خلاف جاری جنگ میں تعاون کا سلسلے جاری ہے وہاں اس سے زیادہ علاقائی کوشش ہونی چاہئے اس سلسلے میں دہشت گردی اور انتہاء پسندی کے خلاف پاک بھارت افغانستان اور ایران کو مل کر حکمت عملی ترتیب دینی چاہئے ۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے سارک فورم کو بھی زیادہ فعال بنانے کی ضرورت پر بھی زور دیا ہے اور پارلیمانی وفود کے زیادہ سے زیادہ تبادلے اور عوام سے عوام تک کے رابطوں کو بھی فعال بنانے کے لیے اقدمات کی ضرورت پر بھی بات چیت ہوئی ۔ انہوں نے کہا کہ پورے خطے میں امن و استحکام کے لیے مل کر اقدامات کرنے ہوں گے اورخطے کی معاشی صورتحال کو بھی بہتر کرکے خوشحال بنانا ہوگا ۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے صرف پاک بھارت مقدمہ نہیں بلکہ جنوبی ایشیاء کے عوام کے مسائل کے حل کی بات کی ہے۔


متن لکھیں اور تلاش کریں
© sweb 2012 - All rights reserved.