5 مارچ 2011
وقت اشاعت: 20:44
جاپان:دوسری جنگ ِ عظیم کے902 سو بم صحیح حالت میں برآمد
جنگ نیوز -
ٹوکیو…سینٹرل مانیٹرنگ…جاپان کے جزیرے اوکی ناوا سے دوسری جنگِ عظیم میں استعمال ہونے والے900سے زائد بم برآمد ہوئے ہیں جو پھٹ نہیں سکے۔ Itoman شہر کے سینئر پولیس افسر Kiyotaka Maedomari کے مطابق تعمیراتی ورکرز سڑک کی توسیع کے لیے کام کررہے تھے کہ میٹل ڈٹیکٹرنے ایک ریسٹورنٹ کے نیچے بارودی مواد کی نشاندہی کی ۔ اس پر فوج کے بم ڈسپوزل اسکواڈ کو طلب کیا گیا جس نے کھدائی کرکے902نہ پھٹنے والے بم برآمد کیے جن میں راکٹ ، گرنیڈ اور مارٹرپروجیکٹائلز بھی شامل ہیں۔خیال کیا جاتا ہے انہیں امریکامیں بنایا گیا ہے۔Maedomari کا یہ بھی کہنا ہے کہ دوسری جنگِ عظیم کے بعد اس شہر سے صحیح حالت میں برآمد ہونے والا گولہ بارود کا یہ سب سے بڑا ذخیرہ ہے۔واضح رہے کہ دوسری جنگ ِ عظیم کے دوران جزیرہ اوکی ناواOkinawa)) میں سب سے زیادہ خونریز جنگ ہوئی تھی۔ امریکی طیاروں نے جاپانی شہروں میں مسلسل 83دن تک بمباری کی تھی جس کے نتیجے میں ایک لاکھ90ہزار جاپانی لقمہ اجل بن گئے تھے جن میں نصف کا تعلق اوکی ناوا سے تھا۔ایک اندازے کے مطابق اوکی ناوا میں 10ہزار ٹن ایسا گولہ بارود موجود ہے جو دوسری جنگِ عظیم میں استعمال ہوا تاہم پھٹ نہیں سکا۔1972ء میں امریکی فوج کے جانے کے بعد سے اب تک 4ہزار500نہ پھٹنے والے بم برآمد کیے جاچکے ہیں۔ماہرین کے مطابق اس وقت بھی زیرِ مین ایک ہزار500ٹن دھماکا خیز مواد موجود ہے جو اب تک پھٹ نہیں سکا تاہم اسے برآمد کرکے ضائع کرنے میں 80سال یا اس سے زائد عرصہ لگ سکتا ہے۔