5 مارچ 2011
وقت اشاعت: 20:44
نسلی بنیادوں پر تقسیم افغانستان کے لیے خطرہ ہے،امریکی اخبار
جنگ نیوز -
کابل…فارن ڈیسک…نسلی بنیادوں پر تقسیم افغانستان کے لیے خطرہ ہے، نسلی خطوط پر خانہ جنگی کی تباہ کاریوں کی یادیں انتہائی زیادہ ہیں اور پشتون طالبان سے مصالحت کے خواہاں صدر حامد کرزئی کی کوششیں اس خوف میں مزید اضافے کا سبب ہیں۔امریکی اخبار’لاس اینجلس ٹائمز‘ کی رپورٹ کے مطابق نوے کی دہائی کے آغاز میں افغانستان خوفناک خانہ جنگی کا شکار رہا جس نے کابل کو کھنڈرات میں تبدیل کردیا تھا۔اس خانہ جنگی میں ایک لاکھ افراد ہلاک ہوئے۔ اس صورت حال نے طالبان کو اقتدار میں آنے کے لیے مدد کی تھی۔آج بھی حالات نوے کی دہائی کی صورت اختیار کرتے جارہے ہیں۔ طالبان کی تحریک افغانستان کے سب سے بڑے نسلی گروپ پشتون پر مشتمل ہے۔ جب کہ اس ملک کے لیڈر تاجک،ازبک اور ہزارے جیسی اقلیتوں سے آتے رہے۔حامد کرزئی طالبان کے ساتھ مصالحت کے خواہاں ہیں، لیکن ان کی اس پیش رفت سے اقلیتی نسلی رہنماؤں کے لیے خطرے کی گھنٹیاں بج گئی ہیں۔ کرزئی سمجھتے ہیں کہ ان کی حکومت سو فیصد مضبوط نہیں۔