5 مارچ 2011
وقت اشاعت: 20:44
پاکستانی معیشت اور جمہوری اداروں کا استحکام چاہتے ہیں ،ہلیری کلنٹن
جنگ نیوز -
اسلام آباد… امریکی وزیر خارجہ ہلیری کلنٹن نے کہا ہے کہ امریکا پاکستانی معیشت اور جمہوری اداروں کا استحکام چاہتا ہے۔پانچ سال میں پاکستان کو ساڑھے سات ارب ڈالر کی غیر فوجی امداد دینگے۔وہ دفتر خارجہ اسلام آباد میں اپنے پاکستانی ہم منصب شاہ محمود قریشی کے ساتھ اسٹریٹجک مذاکرات کے بعد مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کررہی تھیں۔امریکی وزیر خارجہ نے کہا کہ صدر زرداری اور وزیر اعظم گیلانی سے ملاقات مثبت رہی، ان سے پاکستانی عوام کے مسائل پر بات چیت کی گئی۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان سے دیر پا تعاون او رتعلقات چاہتے ہیں۔ امریکا توانائی، صحت اور تعلیم کے شعبوں میں پاکستان سے تعاون کرے گا۔انہوں نے بتایا کہ اسٹریٹجک ڈائیلاگ میں پاکستانی عوام کا معیار زندگی بلند کرنے پر توجہ دی گئی، پانی اور بجلی کے منصوبوں پر بات چیت کی گئی۔ ان کا کہنا تھا کہ تقریر سے عمل یقینا بہتر ہوتا ہے اور ہم عمل کررہے ہیں۔ ایک سوال کے جواب پر انہوں نے کہا کہ افغانستان میں امن چاہنے والوں سے مذاکرات کیلئے تیار ہیں، انہوں نے اعتراف کیا کہ افغانستان عوام اور فوج کا بہت زیادہ جانی نقصان ہوا ہے۔ ہلیری کلنٹن نے داتادربار اور دیگر خودکش حملوں پر تعزیت اور متاثرین سے ہمدردی کا اظہار کیا۔ اس موقع پرانہوں نے پاکستانی آموں کی لذت کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ پاکستانی آم بہت لذیذ ہوتے ہیں ، میں نے خود خرید کر کھائے ہیں،شاہ محمود قریشی نے کہا کہ مذاکرات دونوں ملکوں کے عوام کے مفاد میں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مذاکرات میں دونوں ملکوں کے تعلقات کومزید مستحکم کرنے اور سہ طرفہ تعلقات پرغور کیا گیا۔ان کا کہنا تھا کہ کیری لوگر بل طویل مدتی تعلقات کی دستاویز ہے، امریکی وزیرخارجہ سے صحت تعلیم اور پاکستانی عوام کے مسائل کے بارے میں گفتگو کی گئی۔ انہوں نے بتایا کہپاک امریکامذاکرات کا اگلادور اکتوبر میں واشنگٹن میں ہوگا۔ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ پاکستان توانائی کے بحران سے دوچار ہے، جس سے ہماری معیشت اور زراعت متاثر ہورہی ہے۔