5 مارچ 2011
وقت اشاعت: 20:45
متحدہ کے وزرا کے فیصلوں پر الطاف حسین کیوں تنقید کرتے ہیں، نوازشریف
جنگ نیوز -
لاہور....مسلم لیگ نون کے قائد محمد نواز شریف نے وفاقی حکومت مطالبہ کیا ہے کہ سیلاب متاثرین کو فی خاندان کم ازکم ایک لاکھ روپے امداد دی جائے جبکہ وزیر اعلیٰ پنجاب کا کہنا ہے کہ بیرونی امداد کی منصفانہ تقسیم یقینی بنانے کیلئے مشترکہ مفادات کی کونسل کا اجلاس بلایا جائے۔لاہور میں پارٹی اجلاس کے بعد میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے نوازشریف نے کہا کہ وزیر اعظم نے مل کر سیلاب کامقابلہ کرنے کی تجویز قبول نہیں کی ورنہ دنیا مدد کو بھاگی چلی آتی ، ان کا کہناتھا کہ وفاقی حکومت جو کر رہی ہے۔شہباز شریف اس سے لاعلم ہیں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ صوبوں کو بائی پاس کرنے کے خطرناک نتائج نکل سکتے ہیں۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ دریاؤں اور نہروں کے بند توڑنے والوں کیخلاف جوڈیشل کمیشن بنایا جائے۔ نوازشریف کا کہنا تھا کہ مارشل لانے پہلے کونسی خدمت انجام دی ہے جو اب اسے دعوت دی جارہی ہے،حکومت کی ناکامی کا مطلب جمہوریت کی ناکامی نہیں ۔ انہوں نے کہا الطاف حسین کے وزیر مہنگائی کیخلاف بیان دیتے ہیں اور کابینہ میں بھی بیٹھے ہیں ، آخر وہ کسے بے وقوف بنارہے ہیں ۔اگر مارشل لا آگیا تو وہ اس میں بھی وزیر ہوں گے۔ حکومت کی ناکامی کو جمہوریت کی ناکامی قرار دے کر مارشل لا لگانے کی دعوت نہ دی جائے ۔ اس موقع پر وزیر اعلیٰ پنجاب شہباز شریف کا کہنا تھا کہ انھوں نے وزیر اعظم کو مشترکہ مفادات کونسل کا اجلاس بلانے کیلئے خط لکھا ہے تاکہ عالمی امداد کی تقسیم پر صوبوں کو اعتماد میں لیا جاسکے ،جمہوری اقدار پرعمل کیاجائے توکوئی حکومت ناکام نہیں ہوگی ۔ انھوں نے اعلان کیا کہ عیدالفطر سے پہلے سیلاب متاثرین کو فی خاندان20 ہزار روپے دیئے جائیں گے، وفاقی حکومت بھی اپنا حصہ ڈالے۔ ایک دوسرے پر کیچڑاچھالنے کے بجائے اصل مسائل کی طرف آنا چاہیے ۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے دوروں کو فوٹوسیشن کہنے والے اس نیک کام میں خود بھی فوٹو سیشن کرائیں ۔ نواز شریف نے حکومت ، فوج اور دیگر اداروں سے کہا کہ وہ اپنے اخراجات کم کرکے متاثرین کی مدد کریں ۔وزیر اعلی شہباز شریف کا کہنا تھا کہ غیر ملکی امداد کے معاملے پر مشترکہ مفادات کونسل کااجلاس بلانے کیلیے وزیراعظم کو خط لکھ دیا ہے ۔ انہوں نے بتایا کہ متاثرین کی امداد و بحالی کے لئے پنجاب حکومت نے آج سے کام شروع کردیا ہے ۔ بلاتاخیر سروے کرکے نقصانات کا تخمینہ لگارہے ہیں ۔ متاثرین کی امداد کے لیے ضلعی کمیٹیاں قائم کردی ہیں۔ جہاں پانی اترگیا ہے وہاں عید سے پہلے امداد کی رسائی ممکن بنائی جائے گی ۔