5 مارچ 2011
وقت اشاعت: 20:45
پولیس کو شہریوں کو غیر قانونی قید میں رکھنے کی تنخواہ نہیں دی جاتی، عدالت
جنگ نیوز -
لاہور…لاہورہائی کورٹ کے چیف جسٹس، جسٹس خواجہ محمد شریف نے کہا ہے کہ پولیس کو تنخواہیں اس لئے نہیں دی جاتی کہ وہ شہریوں کو غیر قانونی قید میں رکھیں۔ تنخواہیں بڑھانے کے باوجود پولیس کی کارکردگی بہتر نہیں ہوئی۔ چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ،جسٹس خواجہ محمد شریف نے یہ ریمارکس پولیس کے ہاتھوں حبس بے جا کی چار مختلف درخواستوں کی سماعت کے دوران دیئے۔ہائی کورٹ کے چیف جسٹس نے پولیس کی طرف سے شہریوں کو غیر قانونی قید میں رکھنے کا سخت نوٹس لیتے ہوئے آئی جی پولیس پنجاب کوحکم دیا کہ شہریوں کوغیرقانونی قید میں رکھنے والوں پولیس اہلکاروں کیخلاف سخت کارروائی کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ پولیس کو تنخواہیں اس لئے نہیں دی جاتی کہ وہ شہریوں کو غیر قانونی قید میں رکھیں۔ چیف جسٹس خواجہ محمد شریف نے حبس بے جا کے بڑھتے ہوئے واقعات پرآئی جی پنجاب طارق سلیم ڈوگرکوبھی عدالت میں طلب کرلیاجنہوں نے عدالت کے روبرواپنے بیان میں کہاکہ شہریوں کو غیر قانونی حراست میں رکھنے والے پولیس اہلکاروں کے خلاف کارروائی کی جاتی ہے،تاہم جسٹس خواجہ محمد شریف کا کہناتھا کہ وہ کئی اہلکاروں کو معطل اور برطرف کیا لیکن وہ پھر بحال ہوکر آجاتے ہیں۔لاہورہائی کورٹ کے چیف جسٹس نے بیدیاں روڈ لاہور میں6 افراد کے قتل کے معاملہ پر ازخود کیس کی کارروائی دو ہفتے تک ملتوی کردی۔ ایس پی سی آئی اے لاہور عمر ورک نے ہائی کورٹ سے درخواست کی کہ ایک ملزم گرفتار کرلیاہے باقی کی گرفتاریوں کیلئے مہلت دی جائے۔