5 مارچ 2011
وقت اشاعت: 20:45
کوئٹہ،ریلیف کیمپوں میں معصوم بچے بھی حکومتی بے حسی کا شکار
جنگ نیوز -
کوئٹہ…کوئٹہ کے ریلیف کیمپوں میں بچے بھی حکومتی بے حسی کا رونا روتے ہیں جبکہ بعض بچے غیر سرکاری تنظیم کی کارکردگی سے خوش نظر آتے ہیں ۔کوئٹہ کے علاقے ایسٹرن بائے پاس پر لگائے گئے سیلاب متاثرین کے لئے ریلیف کیمپوں میں ہزاروں کی تعداد میں ہر عمر کے بچے اپنے والدین کے ہمراہ رہائش پذیر ہیں ۔کیمپوں میں بعض متاثرہ بچوں کا کہنا ہے کہ حکومت کی جانب سے انھیں مکمل امداد نہیں مل رہ جس کے باعث وہ بہت سی مشکلات سے دوچار ہیں جبکہ۔بہت سے بچے جلد کی بیماریوں میں مبتلا ہیں۔بچوں کو ناقص خوراک اور ٹینٹ سمیت دیگر سہولیات مہیا نہ کئے جانے کے باعث والدین بھی پریشان ہیں ۔دوسری جانب کیمپ میں لگائے گئے محکمہ صحت کے میڈیکل کیمپ میں موجود ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ انھیں یہاں آئے ہوئے کئی دن ہوگئے ہیں، شروع میں کچھ مشکلات اور ادویات کی کمی ضرور تھی مگر اب محکمے کی جانب سے ادویات ، میڈیکل انسٹرومنٹس اور دیگر سہولیات مہیا کی جارہی ہیں جس کو بروئے کار لاتے ہوئے یہاں تعینا ت میڈیکل کا عملہ متاثرین کو ہرقسم کی طبی سہولیات مہیا کر رہا ہے ۔ ریلیف کیمپ میں موجود بچے سیلاب کی تباہ کاریوں کے باعث شدید ذہینی دباو کا شکار ہیں اور یہی وجہ ہے یونیسیف کی جانب سے ان بچوں کی فلاح و بہبود کے لئے تین سینٹر قائم کئے گئے ہیں، جہاں بچوں کو غیر نصابی سرگرمیوں کے ساتھ ساتھ خوراک بھی مہیا کی جارہی ہے ۔ سیلاب زدہ علاقوں سے آئے ہوئے بچوں اور ان کے والدین کی ذہنی صحت کی بحالی کے لئے فلاحی تنظیموں کی جانب سے کئے گئے اقدمات کے ساتھ ساتھ حکومت بھی اپنی ذمہ داری نبھائے تو متاثرین سیلاب کی مشکلات کسی حد تک کم ہوسکتی ہیں ۔