5 مارچ 2011
وقت اشاعت: 20:45
ٹھٹھہ میں زندگی معمول پر آنا شروع، سجاول کے اطراف میں پانی ہی پانی
جنگ نیوز -
ٹھٹھہ . . . . . . . .ضلع ٹھٹھہ میں بھریا شیدی موری کے مقام پر پڑنے والا شگاف 80 فیصد پر کرلیا گیا ہے جس کے بعد ٹھٹھہ شہر میں حالات معمول پر آنا شروع ہوگئے ہیں۔ جبکہ سجاول شہر تاحال سیلاب کی زد میں ہے۔ ادھر سیلابی ریلے کا رخ دادو اورجوہی شہروں کی جانب ہے۔ ٹھٹھہ شہر میں دریائے سندھ کے حفاظتی بند بھریا شیدی موری کے مقام پر پڑنے والے شگاف کو انجینئرنگ کور کے جوانوں نے 80 فیصد تک پر کرلیا ہے جس کے بعد ٹھٹھہ شہر کو درپیش خطرہ تقریباً ٹل گیا ہے۔ جبکہ یہاں سے نقل مکانی رنے والے افراد بڑی تعداد میں اپنے گھروں کو لوٹ رہے ہیں اور زندگی معمول پر آناشروع ہوگئی ہے۔دوسری جانب سجاول شہر کا زمینی رابطہ ابھی تک منقطع ہے اور تمام سرکاری دفاتر اسپتال اور دیگر علاقے زیرآب آگئے ہیں۔ جبکہ سجاول شہر ڈوبنے کا باعث بننے والے سوجانی مولچند بند کے شگاف کو پر نہیں کیا جاسکا ۔ ادھر شہدادکوٹ سے آنے والا سیلابی ریلا ضلع دادو کی تحصیل میہڑ کے سیکڑوں دیہات ڈبوتا ہوا آج تحصیل خیرپور ناتھن شاہ میں داخل ہوگیا ہے جس کا رخ تیزی سے دادو اور جوہی شہروں کی طرف ہے۔ ضلع کے ان دو بڑے شہروں کو سیلاب سے بچانے کے لئے حفاظتی بند کی تعمیر کردی گئی ہے۔ڈی سی او قمبر، شہدادکوٹ یاسین شر کے مطابق نصیر شاخ، میر شاخ اور نواب شاخ میں تین شگاف پڑنے کے بعد وارہ، گاجی کھاوڑ اور نصیرآباد شہروں میں سیلاب کا خطرہ بڑھ گیا ہے اور ان شہروں کے باہر ہنگامی بنیادوں پر حفاظتی بندوں کی تعمیر شروع کردی گئی ہے۔ قبو سعید خان اور ملحقہ علاقوں میں سیلاب میں پھنسے ہوئے لوگوں کو پاک فوج اور بحریہ کی کشتیوں اور ہیلے کاپٹروں کے ذریعے ریسکیو کرنے کا کام جاری ہے۔ عاقل آگانی لوپ بند ،نصرت لوپ بند اور حسن او واہن لوپ بند پر دریائے سندھ کے پانی میں نمایاں کمی ہوئی ہے اور لاڑکانہ شہر کودرپیش سیلاب کا خطرہ ٹل گیا ہے۔