تازہ ترین سرخیاں
 تازہ ترین خبریں 
5 مارچ 2011
وقت اشاعت: 20:45

بلوچستان ہائیکورٹ،ججز ایشو پر حکومت کو آج ہی جواب پیش کرنیکی ہدایت

جنگ نیوز -
اسلام آباد . . . . . . . سپریم کورٹ میں 18ویں آئینی ترمیم کے مقدمہ کی سماعت کے دوران ججوں نے ریمارکس میں بلوچستان ہائی کورٹ میں متعین ججوں کی ختم ہوتی مدت کے باوجود حکومت کی طرف سے اقدام نا کیئے جانے کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے ،، ججوں نے ریمارکس میں کہا ہے کہ عدالتی ہدایات پر عمل میں حکومت بہت وقت لیتی رہی ہے ۔ چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے لارجر بنچ نے آئینی ترمیم کے مقدمہ کی سماعت کی ،، سپریم کورٹ بار کے وکیل رشید اے رضوی نے دلائل میں کہا کہ آرٹیکل 175 اے معطل کرکے اس پر حکم امتناعی جاری کیا جائے ، یا حکومت کو ہدایات کی جائے کہ ہائی کورٹ کے ایڈہاک ججز کی ختم ہوتی مدت کو توسیع دی جائے ، رشید اے رضوی نے اس بارے میں بلوچستان ہائی کورٹ کے چیف جسٹس کا خط پڑھ کرسنایا اس کے مطابق ، ٹارگٹ کلنگ سمیت سنگین جرائم کے مقدمات بلوچستان ہائی کورٹ میں زیر سماعت ہیں اور ایسے موقع پر ہائی کورٹ کا غیرفعال ہوجانا ، صوبے کے عوام کے حقوق کی خلاف ہوگا ، اٹارنی جنرل نے کہا کہ ، بہتر ہوتا کہ یہ خط ، 2 ہفتے قبل لکھ دیا جاتا ، اس پر جسٹس جواد ایس خواجہ نے کہا کہ ، عدالت نے اس بات کی بہت پہلے نشاندہی کردی تھی، 19 اگست کو بھی خصوصی ہدایت دی تھی اور سب جانتے ہوئے کیوں بحران پیدا کیا جارہا ہے ، جسٹس ثائر علی نے کہا کہ بلوچستان کے ججز کا ایشو، گورننس کا ہے، حکومت ایسے مسائل کو بہت پہلے دیکھتی ہے ،، جسٹس ثاقب نثار نے کہا کہ عدلیہ کا ایک عضو غیرفعال ہورہا ہے، حکومت کو اس کی پرواہ ہی نہیں، بعد میں عدالت نے اس ایشو پر اٹارنی جنرل کو آج ہی وفاق سے ہدایات لے کر جواب ، عدالت میں پیش کرنے کی ہدایت کردی، ایک موقع پر جسٹس آصف کھوسہ نے ریمارکس دئیے کہ عدالت کے پاس 2 راستے ہیں، 18ویں ترمیم معطل کردیں یا ایگزیکٹو کو ہدایت دی جائے کہ وہ ججوں کو توسیع دے ، لیکن ہم نے یہ بھی دیکھا ہے کہ عدالتی ہدایات پر حکومت عمل کرنے میں بہت وقت لیتی ہے۔

متن لکھیں اور تلاش کریں
© sweb 2012 - All rights reserved.