5 مارچ 2011
وقت اشاعت: 20:45
اسرائیل اور فلسطین براہ راست امن بات چیت کا پہلا مرحلہ شروع ہوگیا
جنگ نیوز -
اسرائیل اور فلسطین براہ راست امن بات چیت کا پہلا مرحلہ شروع ہوگیا
واشنگٹن…امریکا سمیت عالمی برادری کی کوششوں سے اسرائیل اور فلسطین کے درمیان دو سال سے معطل براہ راست امن بات چیت کا پہلا مرحلہ شروع ہوگیا۔ واشنگٹن میں عرب اور اسرائیلی رہنماؤں نے امن کے جلد قیام کا بھرپور عزم کیا ہے۔وائٹ ہاؤس میں صدراوباما سے ملاقات کے بعد فلسطینی صدر محمود عباس اور اسرائیلی وزیراعظم نتن یاہو نے مصری صدر حسنی مبارک اور اردن کے شاہ عبداللہ کے ہمراہ مشترکا پریس کانفرنس کرکے امن کیلئے اپنی خواہش کا اظہار کیا۔محمود عباس کا کہنا تھا کہ امن قائم کرنے کا وقت آگیا ہے۔ مگر اسرائیل فلسطینی علاقوں میں یہودی آباد کاری اور تعمیرات بند کرے۔ انہوں نے کہا کہ مشرق وسطیٰ امن معاہدہ ایک سال میں ممکن ہے۔ محمود عباس نے اسرائیلیوں پرحالیہ حملوں کی مذمت بھی کی۔اسرائیلی وزیراعظم نے کہا کہ امن کیلئے فلسطینی صدر محمود عباس انکے اتحادی ہیں۔ ہزاروں سال سے اسرائیلی اور فلسطینی مل کر رہتے آئے ہیں۔ مشرق وسطیٰ میں امن کا قیام اب بھی ممکن ہے اور واشنگٹن ایک تاریخی سمجھوتے کی خواہش لے کر آئے ہیں۔شاہ عبداللہ کا کہنا تھا خطے میں امن سب کا حق ہے اور مشرق وسطی میں تنازع کے حل کیلئے ہمیں مذاکرات کار کے طور پر امریکی صدر کی ضرورت ہے۔ جن کی امن کیلئے کوشش قابل تعریف ہیں۔صدر حسنی مبارک نے اسرائیل سے کہا کہ امن کیلئے اپنا وعدہ پورا کرے اور یہ سنہری موقع ضائع نہ کرے۔ اس سے پہلے صدر اوباما نے وزیر خارجہ ہلیری کلنٹن کے ہمراہ علیحدہ نیوز کانفرنس میں کہا کہ اسرائیل فلسطین مذاکرات کی مکمل حمایت کرتے ہیں۔ اب یہ دونوں ملکوں کا کام ہے کہ مل کر تنازع کا حل نکالیں۔ انہوں نے کہا کہ امریکا دونوں فریقوں پر کوئی حل مسلط نہیں کرنا چاہتا۔ اسرائیل اور فلسطین کو مشکل فیصلے کرنے پڑیں گے۔ امریکا کی خواہش ہے مذاکرات کے نتائج ایک سال میں سانے آجائیں۔