20 جولائی 2011
وقت اشاعت: 11:28
پنجاب: چاول کی پیداوار کا ہدف خطرے میں پڑ گیا
آج نیوز - پنجاب میں دھان کی بوائی کے موقع پر جعلی ادویات،کھاد کی بلیک مارکیٹنگ اور ذخیرہ اندوزی کے باعث چاول کی پیداوار کا ہدف خطرے میں پڑ گیا ہے۔ پنجاب میں رواں سیزن کے لئے چوالیس لاکھ ایکڑ پر چاول کی کاشت کا ہدف مقرر کیا گیا ہے، جس میں گوجرانوالہ ریجن کا بیس لاکھ ایکڑ رقبہ شامل ہے۔ دھان لگانے کا کام اس وقت عروج پر ہے، لیکن یوریا کھاد کی قلت اور بلیک مارکیٹنگ سے کسان پریشان ہیں۔ انہیں یوریا کھاد سرکاری نرخ بارہ سو پچاس روپے فی بیگ کے بجائے اٹھارہ سو روپے میں خریدنا پڑ رہی ہے۔ کاشتکار نمائندوں نے یوریا کھاد کی عدم دستیابی اور بلیک مارکیٹنگ کا ذمہ دار حکومت کی ناقص زرعی پالیسی کو قرار دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ایک طرف فرٹیلائزر کمپنیوں کو گیس کی عدم فراہمی سے ملک میں یوریا کی پیداوار متاثر ہوئی تو دوسری طرف حکومت نے بروقت کھاد درآمد نہیں کی، جس کا خمیازہ کسانوں کو بھگتنا پڑ رہا ہے۔ موجودہ حالات میں جعلی یوریا کھاد، زرعی ادویات، بجلی کی لوڈشیڈنگ اور مہنگا ڈیزل بھی کسانوں کیلئے درد سر بنا ہوا ہے۔ فصلوں کی بوائی کے وقت کھاد اور بیج کی بلیک مارکیٹنگ اور جعلی زرعی ادویات کی کھلے عام فروخت معمول بن چکی ہے، حکومت نے اس کا سدباب نہ کیا تو ملک میں غذائی بحران پیدا ہوسکتا ہے۔