20 جنوری 2015
وقت اشاعت: 10:22
پٹرول بحران اوگرا کی سنگین ناکامی ،ابتدائی تحقیقاتی رپورٹ
جیو نیوز - اسلام آباد......پٹرول بحران اوگرا کی سنگین ناکامی ہے، ایم ڈی پی ایس او سمیت چار افسروں کو معطل کرنے کا فیصلہ درست ہے،تحقیقاتی کمیٹی نے وزیراعظم کو ابتدائی رپورٹ پیش کردی۔ملک میں آٹھ روز سے جاری پٹرول بحران کی وجہ بننے والوں کا بلاآخرسراغ لگالیاگیا، دوافسروں کی کمیٹی نے چند گھنٹوں میں وزیراعظم کواپنی رپورٹ میں موجودہ بحران کا ذمہ دار "اوگرا" کوقرار دے دیا ہے ۔وزیراعظم نے ہدایت کی ہے کہ ایسے اقدامات کیےجائیں کہ مستقبل میں ایسے واقعات سےبچاجاسکے۔ ہرکوئی یہ جاننا چاہتا ہے کہ پٹرول بحران کی وجوہات آخرکیاہیں؟ اسی لیےوزیراعظم نوازشریف نے بھی پےدرپےکئی اجلاس بلائے اور حیران کن طورپر چند ہی گھنٹوں میں وجہ سامنے آگئی ۔زاہد مظفر اور ظفرمسعود پرمشتمل او جی ڈی سی ایل کے دو افسران کی تحقیقاتی کمیٹی نےوزیراعظم کواپنی رپورٹ میں بتایاکہ پٹرول بحران کا ذمہ دار اوگرا ہے، اوریہ اوگراکی سنگین ناکامی ہے۔ ترجمان پرائم منسٹر ہاؤس کے مطابق وزیراعظم کی زیر صدارت اجلاس میں پیش کردہ رپورٹ میں پی ایس او کے ڈپٹی منیجنگ ڈائریکٹر سہیل بٹ کوبھی پٹرول بحران کاذمہ دارقراردیتےہوئےانہیں معطل کرنے کی سفارش کی گئی ہے ۔کمیٹی نے پہلے سے چار افسروں کو معطل کیے جانے کےفیصلے کوبھی درست قراردیا۔ وزیراعظم نے ہدایت کی کہ ایسے اقدامات کیے جائیں کہ آئندہ ایسی بحرانی صورت حال پیدا نہ ہو۔ سبک رفتاری کامظاہرہ کرتےہوئے پٹرول بحران کےذمہ داروں کاتعین توکرلیاگیا لیکن بعض سیاسی رہنمایہ سوال اٹھارہے ہیں کہ کہ کیا وفاقی وزیر پٹرولیم شاہد خاقان عباسی کی وزارت کے ماتحت ادارے او جی ڈی سی ایل کے دوافسران اپنے وزیر اور محکمے کی غلطی یا کوتاہی کی تحقیقات کا اختیار رکھتے تھے؟ اے این پی کےسینٹرزاہدخان کہتے ہیں کہ جلد بازی میں یہ فیصلہ کیسے کرلیاگیاکہ کوئی وزیرتوقصوروارنہیں بلکہ ذمہ دارصرف اوگرا ہے، دو ماتحت افسروں کی کمیٹی کاقیام اوراس کی رپورٹ مضحکہ خیز ہے، سوال تویہ بھی ہے کہ یہ کیسے ممکن ہےکہ کمیٹی وفاقی وزیر کے دباؤ کے بغیر کوئی آزادانہ اور غیرجانبدارانہ تحقیقات کرسکے ؟