تازہ ترین سرخیاں
 تازہ ترین خبریں 
22 جنوری 2015
وقت اشاعت: 21:37

جسٹس مقبول باقر کو سپریم کورٹ کا جج مقرر کیے جانے کا امکان

جیو نیوز - اسلام آباد....چیف جسٹس پاکستان کی زیر صدارت اعلی ٰعدلیہ میں تقرریوں سے متعلق جوڈیشل کمیشن کا اہم اجلاس 28جنوری کو ہو گا ۔ جسٹس مقبول باقر کو سپریم کورٹ کاجج اور جسٹس فیصل عرب کو سندھ ہائیکورٹ کا چیف جسٹس مقرر کیے جانے کا امکان ہے۔ انتہائی مصدقہ ذرائع کے مطابق 28جنوری کےجوڈیشل کمیشن آف پاکستان کے اہم اجلاس میں سندھ ہائیکورٹ کے چیف جسٹس ، جسٹس مقبول باقر کو سپریم کورٹ آف پاکستان میں ترقی دیے جانے کا امکان ہے۔ ان کی سپریم کورٹ میں تقرری کے باعث سندھ ہائیکورٹ کے چیف جسٹس کے خالی عہدہ کیلئے ہائی کورٹ کے سینئر ترین جج اور جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف کیخلاف سنگین غداری کیس کی سماعت کرنے والی خصوصی عدالت کے صدر جسٹس فیصل عرب کی نامزدگی پر غور کیا جائیگا۔ذرائع کے مطابق کمیشن کے اجلاس میں وفاقی شرعی عدالت کے چیف جسٹس کے لیے جسٹس ریاض احمد کے نام پر غور کیا جائیگا ۔ وفاقی شرعی عدالت کے چیف جسٹس کا عہدہ جسٹس سردار رضا کے چیف الیکشن کمشنر بننے کے بعد سے خالی ہے۔جسٹس فیصل عرب کی بطور چیف جسٹس سندھ ہائیکورٹ تقرری ہو گئی تو سنگین غداری کیس کی سماعت کرنے والی عدالت کے حوالے سے کیا صورت حال ہو گی ؟۔ قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ جسٹس فیصل عرب تب بھی خصوصی عدالت کے سربراہ کے طور پر کام جاری رکھ سکتے ہیں، لیکن اگر وہ خصوصی عدالت سے خود کو الگ کرتے ہیں تو ایسی صورت میں وفاقی حکومت کو سنگین غداری کیس کی سماعت کرنے والی عدالت کیلئے نئے جج کے لیے چیف جسٹس پاکستان سے منظوری لینا ہو گی ۔ خصوصی عدالت کی دوبارہ تشکیل سے متعلق استغاثہ ٹیم کے سربراہ اکرم شیخ کی رائے ہے کہ اس سے سنگین غداری کیس پر کوئی اثر نہیں پڑیگا کیوں کہ ملزم پرویز مشرف کے خلاف تمام شہادتیں ریکارڈ کرائی جا چکی ہیں ۔ پرویز مشرف کے وکیل بیرسٹر فروغ نسیم کا موقف اس کے بالکل برعکس ہے ان کا کہنا ہے کہ اس حوالے سے اعلیٰ عدلیہ کا ایک فیصلہ موجود ہے جس کی رو سے استغاثہ کو ازسر نو شہادتیں ریکارڈ کرانا ہونگی ۔ بعض قانونی ماہرین کا یہ بھی کہنا ہے کہ خصوصی عدالت کے قانون میں یہ شق موجود ہے کہ اگر کوئی ایک جج دستیاب نا ہو تو باقی2 ججز مقدمے کی سماعت جاری رکھ سکتے ہیں۔

متن لکھیں اور تلاش کریں
© sweb 2012 - All rights reserved.