23 جنوری 2015
وقت اشاعت: 15:16
سندھ اسمبلی کے اجلاس میں حکومت اور اپوزیشن میں گرما گرمی
جیو نیوز - کراچی.........آج سندھ اسمبلی میں گنے کی قیمتوں سے متعلق سوال کا جواب نہ ملنے پر حکومت اور اپوزیشن کے درمیان گرما گرمی ہوئی ،اپوریشن ارکان نے کھڑے ہوکر احتجاج کیا، ڈپٹی اسپیکر شہلا رضا نے اجلاس پیر تک کے لئے ملتوی کردیا۔چاول ،کپاس اورگنے کے سرکاری ریٹ پرعمل کرانا حکومت کی ذمہ داری ہے، پروکیورمنٹ پرائس کا مطلب ہوتا ہے کہ نجی شعبہ اگرسرکاری ریٹ پرخرید اری نہیں کرتا توحکومت کسان سے خریداری کرے۔اپوزیشن کے ایسے سوالات پر صوبائی وزراء پریشان نظر آئے۔نصرت سحر عباسی نے جب گندم کی قیمتوں کی بات کرتے ہوئے گنے کے ریٹس پر بات کی تو انہیں جواب نہیں دیا گیا جس پر سابق وزیر اعلیٰ ارباب غلام رحیم کھڑے ہوگئے۔اس صورتحال پر حکومتی اراکین چراغ پا ہوگئے۔ وزیر تعلیم نثار کھوڑو بھی اپنی جگہ سے اٹھ کھڑے ہوئے۔ شہلا رضا نے کہا کہ بات اگر گندم کی کی جارہی ہے تو گنا کہاں سے بیچ میں آگیا۔اپوزیشن اراکین نے نشستوں پر کھڑے ہوکر احتجاج کیا ۔شہلا رضا نے اجلاس پیر تل کے لئے ملتوی کردیا۔اسمبلی ختم ہونے کے بعد صحافیوں سے گفتگو میں اپوزیشن لیڈر شہریار مہر نے کہا کہ دو اہم سوالات تھے، چینی کی قیمتوں اور زمین کے تنازعے سے متعلق لیکن ہمیں بات نہیں کرنے دی جاتی۔خواجہ اظہارالحسن نے کہا کہ گنے کے ریٹس پر حکومت کیوں بات نہیں کررہی؟ ارباب غلام رحیم نے کہا کہ معاملات خراب ہورہے ہیں، اگر وفاق نے مداخلت نہ کی تو کوئی تیسرا مداخلت کرے گا۔اپوزیشن اراکین نے کہا کہ پیر کے اجلاس میں تمام اپوزیشن جماعتیں ایک مشترکہ لائحہ عمل کیساتھ اسمبلی کے فلور پر آئیں گی۔