تازہ ترین سرخیاں
 تازہ ترین خبریں 
23 جنوری 2015
وقت اشاعت: 18:45

سینیٹ کمیٹی:پیٹرول بحران پر وزارتوں کے جوابات غیر تسلی بخش قرار

جیو نیوز - اسلام آباد..........پٹرول بحران کی وجوہات کیاہیں ؟؟ ذمہ دارکون ہے؟؟تعین کےلیے سینیٹ کی خزانہ، پٹرولیم، پانی و بجلی کی کمیٹیوں کامشترکہ ا جلاس ہوا۔ وزیر خزانہ اسحاق ڈار اور وزیر پانی و بجلی خواجہ آصف اجلاس میں شریک نہ ہوئے ، اس پر سینیٹر سیخ پا ہوگئے اور علامتی واک آؤٹ کیا۔ وزیر پٹرولیم شاہدخاقان عباسی نے پٹرول بحران کا ذمہ دار عوام کو قرار دیتےہوئےکہاکہ یکم جنوری کو 40 ہزار، دو جنوری کو 23 ہزار اور 19 جنوری تک 19 ہزار ٹن پٹرول استعمال ہوا۔ ان کاکہناتھاکہ پیسوں کی قلت، پی ایس او کے بحران اوراسٹاک کی صورت حال اس بحران کی ذمہ دار نہیں۔میڈیانے مسئلہ بڑھا چڑھا کر پیش کیا، کراچی میں میڈیا نے اپنے طور پر 30 پمپس بند کرادیے، جس کےباعث قلت پیداہوئی۔ شاہدخاقان عباسی نے پنجاب بھر کےگداگروں کوبھی بحران کاذمہ دارقراردیا اورکہاکہ وہ بھیک مانگنے کی بجائے پٹرول پمپس کی لائنوں میں جاکھڑے ہوئے اور پٹرول خرید کردگنی قیمت پرفروخت کرتےرہے۔ سیکرٹری انچارج وزارت پٹرولیم ارشدمرزانے بھی پٹرول کی قلت کی وجوہات بتائیں اوربولے ذمہ داربوتل کا جن ہے۔ یہ جن بوتل میں 78روپے فی لٹر خرید کر 150روپے میں بیچتا رہا، بوتل اورکین میں پٹرول فراہم کرنےپرپابندی عائدہوئی تو پٹرول ملنےلگا۔ چیئرمین اوگرا سعید خان نے اجلاس کوبتایاکہ اوپن مارکیٹ میں پٹرول 300روپے فی لٹر تک فروخت ہوا، 20دن کا پٹرول کا ذخیرہ بنوانا، اوگرا کی ذمہ داری ہے تاہم اوگرا اس اسٹاک کو بھرنے یا تیل درآمد کرنے کی ذمہ دارنہیں۔ سینیٹ کمیٹیوں کےمشترکہ اجلاس کےدوران بعض مواقع پر مولا بخش چانڈیو اور وزیر پٹرولیم شاہد خاقان عباسی کے درمیان تلخ کلامی ہوئی۔ وزیر مملکت پانی و بجلی عابد شیر علی اور سینیٹر زاہد خان کے درمیان بھی تلخ جملوں کا تبادلہ ہوا۔ تمام سینیٹرز اور تین چیئرپرسنز نے متعلقہ وزارتوں کے جوابات اور وضاحت کو غیر تسلی بخش قرار دیا۔

متن لکھیں اور تلاش کریں
© sweb 2012 - All rights reserved.