23 جنوری 2015
وقت اشاعت: 19:2
جامعہ کراچی میں تعمیراتی کام کیلئے درختوں کی بے دریغ کٹائی
جیو نیوز - کراچی..........کراچی یونیورسٹی میں تعمیراتی کام کا تخریبی پہلویہ ہے کہ وہاں ہرے بھرے درختوں کو بے دریغ کاٹا جارہا ہے۔ اس عمل سے جامعہ کاماحولیاتی حسن برباد اور آلودگی میں اضافہ ہوگا مگر انتظامیہ اس حوالے سے کچھ زیادہ فکر مند نہیں۔کراچی یونیورسٹی کی ہریالی جہاں ماحول کی خوبصورتی کو بڑھاتی ہے ، وہیں آلودگی بھی کم کرتی ہے،جس سے طلبہ و طالبات کی ذہنی اور جسمانی صحت متوازن رہتی ہے۔تاہم کئی روز سے یہاں سرسبز وشاداب درختوں کو بے دردی سے کاٹا جارہا ہے، جامعہ کے اساتذہ ناصرف درختوں کی اہمیت سے واقف ہیں بلکہ یہاں تو ماحول اور پودوں پر علیحدہ علیحدہ شعبہ جات بھی قائم ہیں۔ کراچی یونیورسٹی میں کئی جگہوں پر کٹے ہوئے درختوں کے ڈھیر لگے ہیں تو کچھ کو کاٹنے کے لئے مالی تیار ہیں لیکن جامعہ کی انتظامیہ مصروفیت کو جواز بنا کر اس اہم معاملے پر بات کرنے کو تیار نہیں۔ درختوں کی کٹائی اور ماحولیاتی آلودگی بڑھنےپر طلبہ وطالبات میں بھی تشویش پائی جاتی ہے۔ ایک عام درخت سال میں تقریباً 12کلو گرام کاربن ڈائی آکسائڈ جذب کرتا ہے اور 4افراد کے کنبے کے لئے سال بھر کی آکسیجن فراہم کرتا ہے۔ اس لحاظ سے درختوں کو کاٹنے کے بجائے، ان کا تحفظ ضروری ہے۔