تازہ ترین سرخیاں
 تازہ ترین خبریں 
24 مئی 2016
وقت اشاعت: 4:14

کراچی: جنوری سے اب تک 17 کریکر حملے ہوچکے

جیو نیوز - کراچی......کراچی میں 16جنوری کو لیاری سے کریکر حملے یا چھوٹی نوعیت کے دھماکے شروع ہوئے، اب تک رینجرز کی 6 چوکیوں، 4تھانوں اور ایک پولیس موبائل سمیت17 دیگر مقامات کوبھی نشانہ بنایا جاچکا ہے۔

رواں سال میں سب سے پہلے 16جنوری کو لیاری کے کلاکوٹ تھانے پر کریکر حملہ کیا گیا، 21جنوری کو ناظم آباد سندھ اسپورٹس بورڈ کمپلیکس کے قریب گلبہار تھانے کی موبائل کو نشانہ بنایا گیا، 29جنوری کو ناظم آباد بورڈ آفس کے قریب رینجرز چوکی پر کریکر حملہ کیا گیا، اسی دن لیاقت آباد فلائی اوور کے قریب کریکر حملہ ہوا۔

سال کے دوسرے مہینے میں 7فروری کو گجر نالے پر رینجرز چوکی پر دیسی ساختہ بم کا حملہ کیا گیا، گجر نالہ لیاقت آباد چار نمبر کے قریب واقع ہے، 12فروری کو مبینہ ٹائون تھانے پر کریکر حملہ کیا گیا ، اسی دن کریم آباد پر واقع اپوا کالج پر کریکر حملہ کیا گیا۔

انیس فروری کو لیاری کے علاقے کلری میں میڈیکل اسٹور پر دستی بم حملہ کیا گیا، پھر باری آئی نارتھ ناظم آباد میں واقع نارتھ ناظم آباد تھانے کی جہاں 23فروری کو کریکر حملہ ہوا تاہم کریکر فوٹو اسٹیٹ کی دکان پر جاگرا، 7مارچ کو شریف آباد تھانے پردیسی ساختہ بم سے حملہ کیا گیا۔

منگھوپیر میں 9مارچ کو سوئی سدرن گیس ڈسٹری بیوٹر کی دکان پر کریکر مارا گیا، 13مارچ کوگلشن اقبال کے حسن اسکوائر اور گلشن چورنگی پر واقع رینجرز کی چوکیوں کو دیسی ساختہ بموں سے نشانہ بنایا گیا، 15مارچ کو اورنگی ٹاون میں واقع مومن آباد تھانے اور ڈیفینس فیز5میں سندھ ہائی کورٹ کے جج کے گھروں پر دستی بم حملے کیے گئے۔

تین دن پہلے18مارچ کو کورنگی کراسنگ کے قریب واقع رینجرز کی چوکی پر دیسی ساختہ بم سے حملہ کیا گیا، 21مارچ یعنی پیر کو ایک بار پھر کورنگی ڈھائی میں واقع رینجرز چوکی پر دیسی ساختہ کریکر سے حملہ کیا گیا۔

متن لکھیں اور تلاش کریں
© sweb 2012 - All rights reserved.