24 جولائی 2012
وقت اشاعت: 15:50
بلوچستان میں آئینی بریک ڈاوٴن ہوگیا ہے، چیف جسٹس
جیو نیوز - اسلام آباد…چیف جسٹں افتخار محمد چوہدری نے کہا ہے کہ بلوچستان میں آئینی بریک ڈاوٴن ہوگیا ہے، سپریم کورٹ میں بلوچستان امن و امن کیس کے دوران اپنے ریمارکس میں چیف جسٹس نے کہا کہ 30آئین کا نفاذ نہیں ہورہا، عدالتی حکم پر عمل نہیں ہورہا،بظاہر انتظامی مشینری، عملدر آمد کرانے میں ناکام رہی،عدالت نے حالات پر وفاقی،صوبائی حکومت کی مجاز انتظامیہ سے جواب طلب کرتے ہوئے بلوچستان امن و امان کیس کی کل تک ملتوی کردی۔سپریم کورٹ نے بلوچستان میں انتظامی مشینری کو ناکام قرار دیتے ہوئے کہاہے کہ وہاں آئین کا نفاذ ہورہا نہ ہی عدالتی حکم پر عمل ہورہاہے، چیف جسٹس افتخارمحمدچودھری نے کہاہے کہ بلوچستان میں آئینی بریک ڈاوٴن ہوگیا ہے، اب قانون نے جو اجازت دی وہ عدالت لکھ دے گی۔چیف جسٹس کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے تین رکنی بنچ نے بلوچستان بدامنی کیس کی سماعت کی تو صوبائی چیف سیکریٹری کے نہ آنے پر ججز نے اظہار ناراضگی کیا، چیف جسٹس نے کہاکہ فیصلے پر عمل نہیں ہورہا، ہم وزیراعظم کے پرنسپل سیکریٹری کو بلالیتے ہیں، کسی ایک کیس کو سول، پولیس ، ایف سی ، آرمی والے حل نہیں کرسکے، صوبائی سیکریٹری داخلہ نے کان کنوں کے اغواء و قتل واقعہ پر انکوائری رپورٹ پیش کی اور کہاکہ حالیہ آپریشن ٹھیک ہوا،2 ملزم گرفتار کرلئے ہیں، ماہ رمضان کی وجہ سے تحمل برتا ہے، ایجنسیوں کے وکیل راجا ارشاد نے بتایاکہ کوسٹ گارڈ پر حملہ ، ایف سی کی یونی فارم پہنے لوگوں نے کیا، چیف جسٹس نے کہاکہ سیدھا کہیں کچھ نہیں ہوا، آپ لوگوں نے ہاتھ کھڑے کردیئے ہیں، کوئی فورس، بشمول آئی ایس آئی ، ایم آئی کام نہیں کررہی، چھ ماہ سے کہہ رہے ہیں لیکن نتیجہ صفر ہے،چیف سیکریٹری کو لکھ کر دینا ہوگا کہ امن و امان میں ناکام ہوگئے،تین افراد کے اغواء پر ایف سی کے آفیسر ، پولیس کو جاکر سرنڈر کریں ، بعد میں عدالت نے ان حالات پر وفاقی،صوبائی حکومت کی مجاز انتظامیہ سے جواب طلب کرتے ہوئے آرڈر میں لکھا کہ آئین کا نفاذ نہیں ہورہا، عدالتی حکم پر عمل نہیں ہورہا،بظاہر انتظامی مشینری، عملدر آمد کرانے میں ناکام رہی ہے ، مقدمہ کی مزید سماعت کل ہوگی۔