25 جولائی 2012
وقت اشاعت: 11:0
این آر او کیس، وزیراعظم کو عمل درآمد کیلئے 8اگست تک مہلت
جیو نیوز - اسلام آباد… سپریم کورٹ میں این آر او عمل درآمد کیس کی سماعت 8اگست تک ملتوی کر دی گئی ہے اور عدالت نے وزیراعظم کو احکامات پر عمل کرنے کیلئے مزید دو ہفتوں کی مہلت دے دی ہے۔ اٹارنی جنرل نے عدالت کو یقین دلایا ہے کہ وہ معاملے کو حل کرنے کی سنجیدہ کوشش کریں گے۔واضح رہے کہ اس سے قبل عدالت نے 12 جولائی کو 25جولائی تک کی مہلت دی تھی۔ کیس کی سماعت جسٹس آصف کھوسہ کی سربراہی میں 5رکنی بینچ کر رہا ہے ۔ سماعت کے اختتام پر جسٹس آصف کھوسہ نے ریمارکس دیئے کہ وہ ہمارے بھی صدر ہیں ، اگر انہیں عالمی استثنیٰ حاصل ہے تو عدالت مدد کرنے کو تیار ہے۔ اس سے قبل سماعت کی ابتداء میں عدالت نے استفسار کیا کہ عدنان خواجہ، ملک قیوم اور حمد ریاض شیخ کے تقرر کے حوالے سے کیا پیش رفت ہوئی جس پر نیب پراسیکیوٹر جنرل نے عدنان خواجہ کے بطور سربراہ او جی ڈی سی ایل تقرر کے خلاف رپورٹ پیش کردی جس میں کہا گیا کہ اس حوالے سے تحقیقات مکمل ہو چکی ہیں اور عدنان خواجہ کا معاملہ پراسیکوشن میں ہے، انہوں نے کہا کہ نیب بورڈ 2یا تین ہفتوں میں مزید فیصلہ کرے گا۔ اس کے علاوہ نیب پراسیکیوٹر جنرل نے عدالت کو بتایا کہ احمد ریاض شیخ تقرر کیس میں تحقیقات مکمل ہوگئی ہیں اور اس میں 3 افراد کیخلاف ریفرنس دائر کرنیکا فیصلہ کیا گیا ہے۔ انہوں نے عدالت کو بتایا کہ ریفرنسز آئندہ 2 سے 3 ہفتوں میں دائر کیے جائینگے۔ سماعت کے دوران اٹارنی جنرل عرفان قادر نے موٴقف اختیار کیا ہے کہ عدالتی حکم پر عمل نہیں ہوسکتا، پہلے ایک وزیراعظم کو غیر آئینی طور پر گھر بھیج دیا گیا۔ عدالت کے روبرو اٹارنی جنرل نے کہا کہ عدالت کا 12 جولائی کا حکم پہلے والے حکم سے مطابق نہیں رکھتا، سپریم کورٹ کسی نیب افسرکو ہدایات نہیں دے سکتی۔ انہوں نے مزید کہا کہ جسٹس آصف کھوسہ خود کو بنچ سے الگ کریں۔ اٹارنی جنرل کا مزید کہنا تھا کہ نیب عدالت کو جوابدہ بھی نہیں ہے، این آر او کیس کے عدالتی فیصلے میں بڑی خامیاں ہیں۔ اس موقع پر جسٹس آصف کھوسہ نے ریمارکس دیئے کہ ہمیں کسی وزیراعظم کو گھر بھیجنے کا شوق نہیں، آپ سوچیں راستے نکل سکتے ہیں، ہم پہلے پاکستانی ہیں، عدالت ایک قانونی پوزیشن لے چکی ہے، ایڈجسٹمنٹ ممکن نہیں، ایڈجسٹمنٹ سیاست میں کی جاتی ہے۔ انہوں نے مزید ریمارکس دیئے کہ اس مرتبہ خلیل جبران کی بات نہیں کرینگے، کچھ اور کہیں گے، عدالت کا کوئی ذاتی مفاد نہیں ہے۔ جسٹس آصف کھوسہ نے اٹارنی جنرل کو مخاطب کر تے ہوئے کہا کہ آپ اس کیس میں نیب پراسکیوٹر جنرل تھے، آپ نے بتایا آصف زرداری کو جنیوا میں منی لانڈرنگ پر سزا ہوگئی ۔ بعد ازاں عدالتی حکم میں کہا گیا ہے کہ امید ہے دو اداروں کے درمیان دوری ختم کرنا نا ممکن نہیں، اٹارنی جنرل نے معاملے کو سنجیدگی سے حل کرنے کی یقین دہانی کرائی ہے، ملک کے اہم اداروں میں نام نہاد تناوٴ ہے، عدالت توقع کر تی ہے کہ آئندہ تاریخ تک قابل قبول حل نکال لیا جائے گا۔